Wednesday, November 22, 2017

مشاہدات و واقعات




ایک چھ ماہ کے بچے کو کو لایا گیا جس میں پانی کی شدید کمی ہو چکی تھی۔اس کے ساتھ کمزور سی ماں جس کے دونوں ہاتھوں پر برینولا دیکھ کر میرے ذہن میں کہانی یوں لکھی گئی کہ ماں زیادہ بیمار ہو گئی ہوگی اور بچے کو سنبھالنے والا گھر میں کوئی نہیں ہوگا۔ اور اس لاپرواہی سے بچہ بیمار ہو کر اس حالت میں چلا گیا ہے۔ مگر جب معائینہ کرنے کے بعد میں نے کہا کہ بچے میں پانی کی بہت زیادہ کمی ہے اور ڈرپ لگانی پڑے گی تو بچے کا باپ بولا۔
 دو ڈرپیں تو اس کی ماں کو لگ چکیں ہیں اس سے تو بچے کی پانی کی کمی پوری نہیں ہوئی تو اب کیسے ہو گی؟
میں نے پوچھا ڈرپ اور ماں کو کو کیوں؟
 تو جواب آیا گاؤں کے ڈاکٹر نے ڈرپ لگانے کی کوشش کی تھی مگر سوئی نہ لگ سکی تو اس نے کہا چونکہ بچہ ماں کا دودھ پیتا ہے اسلئے ڈرپیں ماں کو لگا دیتے ہیں ، دودھ کے رستے بچے کو چلیں جائیں گی
جی ہاں اب دل کھول کر سر پیٹیں اور اپنے حسن مزاح کو داد دیں عوام کے شعور اور حکومتی ذمہ داریوں پر انگلیاں مت اٹھائیں۔ یہ کسی مزاح نگار کے قلم سے پھوٹتے شگوفے نہیں ہیں اور نہ ہی یہ کسی قلم کار کے ذہن کی تخلیق ہیں۔یہ ان بیشمار واقعات میں سے چند ایک ہیں جن سے ہمارا رازانہ واسطہ پڑتا ہے

مشاہدات و واقعات




جب چار ماہ کا بچہ دوبارہ 103 بخار کے ساتھ آیا تو میں نے پوچھا  جو دوائی آپ کو دی تھی وہ ہے یا ختم ہو گئی ہے؟
  تو دادی فوراً بولی  پتڑ ، ساری دوا پلا چھڈی آ 
پر بخار نئی ٹٹیا
ساری دوائی پلا دی تھی لیکن بخار نہیں ختم ہوا 
میں نے پھر پوچھا بچہ دوائی پی کر کہیں الٹی تو نہیں کر دیتا میرا مطلب ہے دوائی بچے کے پیٹ میں تو چلی جاتی ہے؟ 
ہاں جی بالکل۔۔
بچے کو تو ہم نے دوا دی ہی نہیں۔ چونکہ یہ دودھ اپنی ماں کا پیتا ہے اسلئے دوا اس کی ماں کو پلا دی تھی۔اسلئے ساری دوا بچے تک پہنچتی رہی ہے۔

مشاہدات و واقعات




اس واقعے کے بعد جب حاجی مقبول صاحب نے ہاتھ آگے بڑھا دیا اور نبض دیکھ کر مرض بوجھنے کو کہا تو میں نے کچھ دیر تک نبض دیکھی اور پھر ہاتھ نبض پر رکھے اپنے کمپیوٹر پر فیس بک دیکھنے میں مصروف ہو گیاحاجی صاحب کچھ دیر تو انتظار کرتے رہے پھر گویا ہوئے 
 پتڑ کی کرن ڈیاں ہویاں۔تیرے کولوں ھالے نئیں میری بیماری بجھی نئی گئی۔ او میں خربوزے کھا کے اتوں پانی پی لتا سی جیدی وجہ توں مینوں ہیضہ ہو گیا سی؟
بیٹا کیا کر رہے ہو۔میری بیماری ابھی تک ڈھونڈ نہیں پائے۔میں نے خربوزے کھا کر اوپر سے پانی پی لیا تھا جس کی وجہ سے ہیضہ ہوگیا ہے 
میں نے فورا جواب دیا 
بماری تے میْں لب لئی سی پر ۔میں خربوزے دی قسم لبھن ڈیا ہویا سی۔۔تاکہ سہی دوا دے سکاں۔
بیماری تو میں نے ڈھونڈ لی تھی لیکن میں خربوزے کی قسم تلاش کر رھا تھا
 حاجی مقبول صاحب میری قابلیت کی داد دیتے ہوئے پرچی لئے کمرے سے رخصت ہوئے تو دیر تک مسکراہٹ میرے لبوں اور آنکھوں سے نمودار ہوتی رہی

مشاہدات و واقعات



لاجواب تو مجھے اس بابا جی نے بھی کر دیا تھا جو سوجی ہوئی ٹانگ کے ساتھ آئے اور اصرا ر کرنے لگے کہ نبض دیکھ کر میری مرض بوجھو۔ میں نے سمجھانے کی بہت کوشش کی کہ میں کوئی حکیم نہیں ہوں مگر چارو ناچار نبض پکڑ کر پوچھا بابا جی چوٹ کیسے لگی تھی؟ 
باباجی تراخ سے بولے رہ گئی نا ساری ڈاکٹری۔ 
بڑی تعریف سنی سی تیری۔ تینوں اے وی نئی پتا لگا ، مینوں مج نے ٹڈ ماری سی ۔
میں نے تھوڑا احتجاج کیا کہ میں قریب قریب پہنچ گیا تھا مگر بابا جی ناراض ہو کر دوائی لئے بغیر چلے گئے

مشاہدات و واقعات



اس دن مجھے معلوم ہوا میری حس مزاح کس قدر کمزور ہے ۔
یہ دو ماہ کا بچہ میرے پاس آیا تو میں نے اچھی طرح سمجھایا کہ اس کی کو سوائے ماں کے دودھ کے کوئی چیز نہیں دینی ہے۔جب یہ بچہ دوبارہ دستوں کے ساتھ آیا تو اس کے باپ نے شکائیت لگائی کہ آپ نے تو صرف ماں کے دودھ سوا ہر چیزدینے سے منع کیا تھا مگر اس کی ماں اس کو چائے بھی پلاتی ہے۔ میں نے طنزاً ماں سے کہا اس کو برفی بھی کھلانا تھی۔ وہ بڑی خوشی سے بولی  کھلائی تھی ڈاکٹر صاحب مگر اینے ہضم نہیں کیتی سی۔۔کھلائی تو تھی مگر اس نے ہضم نہیں کی

مشاہدات و واقعات



اس دن ایک آدمی تین عورتوں اور بچوں کے ہمراہ میرے کمرے میں داخل ہونے کے بعد فوراً میری تعریف میں زمین و آسمان ایک کرنے لگا۔اور میری قابلیت اور طبی جواہر کو کئی رنگ دینے لگا۔ پہلے تو کچھ خوشی ہوئی پھر مسرت کے نشے میں دماغ کچھ خمار کا شکار ہوا۔جب وجہ تسمیہ تعریف و رجان پوچھا تو بتایا گیا کہ یہ جو بچہ دیکھ رہے ہیں اس کی خارش کے علاج کیلئے ہم نے کوئی ڈاکٹر نہیں چھوڑا تھاکوئی حکیم اور ایسا نسخہ نہیں جو ہم نے آزمایا نہ ہولیکن آپ کے پاس صرف ایک بار آئے تھے اور یہ آپ کی دوائی سے ٹھیک ہو گیا تھاابھی وہ تعریفی کلمات کا سلسلہ دوبارہ شروع کرنے ہی والا تھا کہ میں نے ٹوکا اب کس سلسلے میں آئے ہیں؟ مجھے یقین ہو گیا تھا کہ اب یہ سارے گاؤں کے خارش کے مریض میرے پاس لانے والا ہے۔اس نے ایک عورت کو آگے بڑھ کر معائنے والے سٹول پر بیٹھنے کو کہا اور بولا ڈاکٹر صاحب اس کی شادی کو آٹھ سال ہو گئے ہیں اور ان کے ہاں کوئی اولاد نہیں ہوئی ہے۔ہم آپ کے پاس بڑے یقین اور امید کیساتھ آئے ہیں۔۔۔

صرف بالغوں کیلئے




سخت گرمی کے موسم میں میاں بیوی میرے پاس آئے۔ بیوی کو الرجی کی شکائیت تھی دوائی لکھنے کے بعد میں نے دن میں تین چار بار نہانے کا مشورہ بھی دیا۔ مشورہ سن کر خاوند ہنس کر بولا ڈاکٹر صاحب آپ نے دن میں تین چار بارکہا ہے یہ تو اس گرمی میں بھی ہفتہ ہفتہ نہیں نہاتی۔ اس کی بات سن کر میرے منہ سے بے اختیار نکل گیا جو اس کی سمجھ میں آیا یا نہیں لیکن میں یاد کر کے اکثر مسکرا پڑتا ہوں ’’ تو اس میں قصور تو تمہارا ہوا نا
بابا فضل کو اس کا بیٹا کمر درد کے ساتھ لایا تو چیک اپ کے بعد دوئی کی پرچی لیکر باپ بیٹا کمرے سے چلے گئے تو تھوری دیر بعد بیٹا کمرے میں دوبارہ داخل ہوا اورکہنے لگا ڈاکٹر صاحب ابا جی کی بیماری کے بارے میں کچھ حقیقت کرنا تھی میں نے کہا بتاؤ تو کہنے لگا۔۔ شادی تو پچھلے مہینے میری ہوئی ہے ۔بڑھاپے میں اب اماں ابا کی عمر اجازت نہیں دیتی اور صحت بھی وہ نہیں رہی ۔کمر میں تکلیف ہی ہوگی نا ، کچھ آپ ہی ان کو سمجھائیں
ہمارے ہاں دیوروں پر لکھے اشتہاروں، ٹی وی اور دوسرے میڈیا کے ذریعے بنائی گئی ذہنی پستی کی فضا نے ہمارے نوجوانوں کو کس قدر متاثر کیا ہے اس کا اندازہ اس واقعے سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔ ایک نوجوان کو جس کی ایک ہفتے بعد شادی تھی اور پچھلے تین دن سے پیٹ درد اور الٹی کی شکائیت سے سرکاری ہسپتال میں داخل رہنے کے بعد بھی اس کی طبیعت نہ سنبھلی تو میرے پاس لایا گیا۔ تمام رپورٹیں بھی نارمل تھیں اور بظاہر صحت اور علامتوں میں تعلق بھی دکھائی نہیں دیتا تھا۔ باپ کو اس کی جلد صحت یابی کی فکر اس لئے بھی تھی کہ لڑکی والے انگلینڈ سے آئے تھے اور تاریخ التوا میں نہیں ڈالی جا سکتی تھی۔ جب میں نے واضح لفظوں میں بتایا کہ مجھے تو لڑکے کی بیماری سارا ڈرامہ لگ رہا ہے تو اس کے ایک دوست نے دفتر میں آکر تصدیق کی آپ کی بات صحیح ہے، وہ حکیم صاحب سے شادی کورس کر رہا ہے ا ور ابھی حکیم ٖصاحب نے اجازت نہیں دی اور اس کے باپ نے بغیر مشورہ کے تاریخ بھی طے کر دی ہے۔
بارات جیسے ہی واپس لوٹی امجد صاحب سب سے دامن چھڑا کر میرے پاس گھر پر آگئے اور کہنے لگے کوئی اچھی سی دوا دو۔ کچھ سمجھانے کی بحث سے بچتے ہوئے گھر سے بسکوپین کی دو گولیاں پتے سے نکال کر اسے لا کر دیں اور کہا اسے دودھ کے ساتھ استعمال کر لینا۔ اس گولی نے کیا افادیت دکھائی اس کا اندازہ چند دن بعد رات کو ایک سجے سجائے نوجوان کو اپنے گھر کے دروازے پر موجود پا کر ہوا جس نے کہا آپ کو امجد صاحب کا فون تو آیا ہی ہوگا ۔ ۔۔۔ 

مشاہدات و واقعات




بیماری کے دوسرے دن بھی بچہ اکھڑے سانس کے ساتھ آیا تو بچے کے کپڑوں سے دھوئیں کی بو دیکھ کر میں نے ماں سے کہا کل آپ لوگوں کو کمرے میں کوئلے جلا کر رکھنے سے منع کیا تھا پھر بھی وہی غلطی کیوں دہرائی ۔ اس کی ماں فوراً بولی ’’ نئی جی ڈاکٹرصاحب تہاڈے کہن تے اسیں کولے نئیں بالے ۔۔لکڑاں بال کے کمرے وچ رکھیاں سن ( ہم نے کوئلے تو نہیں جلائے لیکن لکڑیاں جلا کر کمرے میں رکھی تھیں 

مشاہدات و واقعات



ساٹھ سالہ بلقیس بیگم نے جب اپنے پٹھوں کی کمزوری کی شکائیت کی تو میرے پوچھنے پر جواب آیا ، بچپن سے ہی ہے ۔ابھی بچپن کا لفظ سن کر اپنی مسکراہٹ روکنے کی کوشش کر رہا تھا کہ ا نہوں نے مزید انکشاف کیا کہ جب وہ پانچویں میں پڑھتی تھیں تو انہیں ٹا ئیفائیڈ ہوا تھا ، میرے منہ سے بے ساختہ نکل گیا کیا اس وقت ٹائفائیڈ ایجاد ہو گیا تھا؟۔ لیکن بلقیس بیگم نے میری بات سنی ان سنی کرتے ہوئے کہا اسی لئے تو میری بیماری بگڑ گئی تھی کیونکہ میرا مرض کسی کی سمجھ میں جو نہیں آیا تھا

مشاہدات و واقعات



بابا محمد یوسف اللہ ان کو جنت نصیب فرمائے، شوگر کا مریض تھا ۔ میرے پاس جب بھی آتا اپنی کمزوری کا رونا روتا، جب شوگر چیک کی جاتی تو  وہ تین سو سے کم نہ ہوتی۔کھانے والی تمام ادویات کی ناکامی کے بعد جب میں نے بابا جی کو بتایا کہ اب تو انسولین کا استعمال ناگزیر ہو گیا ہے تو بابا جی نے سر پکڑ لیا اور کہنے لگے پرہیز بھی اتنا کرتا ہوں، سیر پر بھی باقاعدگی سے جاتا ہوں، دوائی میں بھی کبھی ناغہ نہیں کیا، اگر آپ کہیں تو قبض کیلئے ہڑوں کےمربعے کا استعمال ترک کر کے نہ دیکھوں؟۔۔۔

مشاہدات و واقعات



فاطمہ کی شادی تو سمندری شہر ہوئی تھی لیکن پہلے بچے کی پیدائش ماں باپ کے ہاں ہی ہوئی تھی جو پہلے مہینے ہی بیمار ہو کر میرے کلینک آگیا تھا۔ اس کے بعد بھی کئی بار آیاحتی کہ سسرال جانے کے بعد بھی بچہ جب بھی بیمار ہوا تو شفا میرے کلینک سے ہی ہوئی۔اس دن جب ٹیکسی پر نوجوان ،بیوی اور بچے کو لے کر آیا تو بڑی مایوسی میں بولا کہ اس بچے کو تو آپ کے علاوہ آرام ہی نہیں آتا سارے سمندری سے دوا لے لی لیکن اسے فرق نہیں پڑا ۔۔اگلے دن عورت  جب دوبارہ چیک کروانے آئی تو تو میں نے اسے سمجھایا کہ سمندری میں کئی اچھے ڈاکٹرہیں اور بچے کو وہاں دکھا لیا کریں ۔میرا خیال تھا کہ اب وہ میری طبی سوجھ بوجھ اور فہم کو ستائش کی نظر سے دیکھے گی اور میری قابلیت پر کوئی قصیدہ کہے گی مگر اس نے تو یہ کہ کر میری سوچ کا قلعہ مسمار کر دیا ’’ ویسے وہ کون سا مجھے میکے آنے دیتے ہیں اس بچے کی بیماری کے بہانے ،میں دو چار دن امی کے گھر رہ لیتی ہوں

مشاہدات و واقعات



جس دن لطیفاں مائی کو اکڑے جسم، ٹیڑھے منہ،رال میں بھیگے ہونٹوں اور آسمان کی طرف دیکھتی ساکت نظروں کے ساتھ میرے پاس لایا گیا تو ایک لمحے کیلئے تو مجھے بھی یوں لگا کہ موت کا فرشتہ کہیں قریب ہی انتظار کر رہاہے۔ ساتھ ایک جمِ غفیر تھا،کوئی سورہ یاسین پڑھ کر پھونکیں مار رہا تھا تو کوئی تسبیح کے دانے گرا کروظیفہ کر رہا تھا لیکن  سب میں مشترک بات یہ تھی کہ سبھی مائی کی موت کی آسانی کیلئے دعا کر رہے تھے۔ضروری معائنے کے بعدمجھے اندازہ ہوگیا کہ مریضہ سائکو ہے اور ساری کیفیت خود ساختہ ہے۔کچھ ذہنی سکون کی ادویات اور کچھ  ٹوٹکے  بھی برتے   لیکن مریضہ کچھ ایسی ڈھیٹ واقع ہوئی کہ کسی حربے کو کامیاب نہ ہونے دیا۔ جب اس کی گلے سے نکلتی کراہ او ر لوگوں کی بے چینی ناقابل بردا شت ہو گئی تو تو میں نے اپنے ڈسپنسر راشد کو بلایا اور  کہا اس کے بازو پر پانی کے ٹیکے لگانے شروع کر دو۔ ابھی پہلا ٹیکہ ہی لگا تھا کہ لطیفاں مائی چیخ مار کر اٹھ کر بیٹھ گئی اور حیرانی سے ارد گرد جمع لوگوں کو دیکھنے لگی اتنا ہجومِ پریشاں دیکھ کر مائی نے سین دوبارہ دہرانے کا ناٹک شروع ہی کیا تھا کہ میں نے راشد کو آواز دی۔ میری آواز سنتے ہی اس نے آنکھیں کھول دیں اور ہاتھ جوڑ کربولی میں ٹھیک ہوں اور جوس ، بسکٹ کھا کر اپنی صحت یابی کا یقین دلایا۔ ہمراہ آئے بیسیوں لوگ اس زندہ معجزے کو دیکھ کر انگشت بنداں تھے ۔ زباں زد عام اس معجزاتی ٹیکے کا ذکر تھا اور اگلے کئی دن تک کلینک پر لقوے اور فالج کے مریضوں اور پیدائشی معذور بچوں کا ہجوم رہا ۔ اب بھی کبھی کبھا ر لوگ ٹیڑھا منہ سیدھا کرنے والا ٹیکہ لگونے آجاتے ہیں

مشاہدات و واقعات



اور یہ شائد پرسوں کی بات ہے کہ میاں بیوی اپنے بچے کو لیکر آئے جس کو ایک دن پہلے پانی کی کمی کی وجہ سے ڈرپ لگی تھی۔ خون کی رپورٹ دیکھنے کے بعد ان کو بتایا کہ بچے میں خون کی کافی کمی ہے اس لئے تھوڑا سا خون کا بندوبست کر لیں۔
ماں بولی کتنا چاہیئے؟ میں بتا دیا کہ تھوڑا سا چاہیئے میں لکھ کر دے رہا ہوں۔
 باپ نے پوچھا کہ خون کہاں سے حاصل کرنا ہے؟ میں نے بتا یا کہ آپ اپنا چیک کر وا لیں یا پھر اپنے خاندان میں پتا کریں جس کاگروپ بھی اس بچے سے مل جائے تو وہ لگوایا جاسکتا ہے۔
 ماں بولی اگر خون بازار سے لے لیا جائے تو کیسا ہے ؟تو میں کہا کہ اگر آپ سے انتظام نہ ہو پائے تو کسی بھی بلڈ بینک سے رابطہ کر لیں۔
 اس پر باپ بولا خون کا انتظام کب تک کرنا ہے؟،تو میں نے جواب دیا پہلی فرصت میں کر لیں تو اچھی بات ہے۔ آج انتظام ہو جائے یا صبح تک کر لیں۔
 جب سارے سوال ختم ہوگئے تو تو دونوں میاں بیوی باہر چلے گئے لیکن کچھ ہی دیر بعد خاوند دوبارہ کمرے میں داخل ہوا کہنے لگا ڈاکٹر صاحب ابھی آپ نے خون کا انتظام کرنے کو کہا تھا۔ تو پوچھنا یہ تھا خون لگوانا کس کو ہے ؟؟؟؟؟

مشاہدات و واقعات


پچھلے ایک ہفتے کے دوران اپنے پیشہ وارانہ امور کی انجام دہی کے دوران دو بار ایسے مواقع پیش آئے ہیں کہ جب میں سر پکڑ کر بیٹھ گیا ہوں اور میرے پاس اس ساری صورتحال پر پیش کرنے کیلئے کوئی مناسب رد عمل موجود نہیں تھا۔پہلی بار تو تب ہوا۔جب ایک عورت جو اپنے پندرہ دن کے بچے کو دستوں کی شکائیت کے ساتھ لائی تو میں نے اس کی ماں کو سمجھایا کہ بچہ ٹھیک اس کے سنبھالنے میں کچھ مسئلے ہیں ان کو حل کریں تو یہ انشاللہ ٹھیک ہوجائے گا۔
بچے کو صرف ماں کا دودھ دینے کی سختی سے ہدائت کی اور دوسری ضروری باتیں سمجھائیں تو ماں بولی عرق دے دیا کریں
 میں کہا نہیں،
 گرائپ واٹر ؟
 میں کہا ضرورت نہیں۔
 وہ پھر بولی اس کو شہد دے دیا کریں؟
 میں جواب دیا اس کی بھی ضرورت نہیں ہوتی اور ایک بار پھر سمجھاتے ہوئے کہا کہ بی بی میں نے آپ کو ایک بار جب سمجھا دیا ہے کہ کہ اس کو چھ ماہ عمر تک  ماں کے دودھ کے علاوہ  کوئی چیز کھانے کو نہیں دینا تو اس کا کیا مطلب ہوا؟
 ا س پر بچے کی ماں بولی کہ یہ آم کا جوس بڑے شوق سے پیتا ہے وہ دے دیا کروں ؟ اور اس سے پہلے میں کوئی جواب دے پاتا ، اس کی ساس جو اس کے ساتھ آئی تھی بولی، میں نے تو اس کو منع کیا تھا کہ آم کا جوس نہ دیا کرو آم گرم ہوتا ہے اس کو لسی دیا کرو ، وہ ٹھنڈی ہوتی ہے۔ مگر میری تو کوئی بات یہ سنتی ہی نہیں ہے۔۔۔۔۔ 

مشاہدات و واقعات



ایک میاں بیوی بچے کو اٹھائے میرے کمرے میں داخل ہوئے اور پوچھا ڈاکٹر مبشر آپ ہی ہیں ؟ میں نے اثبات میں سر ہلایا ۔ تو مرد نے سلام لینے کیلئے ہاتھ آگے بڑھا دیا ۔ اور بتایا کہ میں ہڑپہ سے آیا ہوں اور مہر بہادر علی کے منشی نے بھیجا ہے ۔اس سے پہلے پوچھتا کہ وہ کون ہیں؟ اس نے خود ہی جواب دے دیاکہ اس کے بیٹے کی بیماری کو آپ سے آرام آیا تھا۔انہوں نےبہت سے ڈاکٹروں سے اپنے بچے کا علاج کروایا تھالیکن کہیں سے بھی شفا نصیب نہیں ہوئی تھی لیکن آپ سے صرف ایک بار چیک اپ کروایا تو وہ ٹھیک ہوگیا تھا۔ بڑی تعریف سنی ہے آپ کی!! اس سے پہلے کہ وہ اپنے قصیدے کا رنگ کچھ اور بڑھاتا، میں نے مداخلت کی کہ کیسے آنا ہوا ہے ؟ تو اس نے بتایا کہ وہ اپنے بچے کو چیک کروانے آئے ہیں۔ میں نے اپنائیت کے ساتھ بیٹھنے کو کہا اور پوچھا کہ بچے کو کیا تکلیف ہے؟تو کہنے لگا کہ آپ کی بہت تعریف سنی ہے خود ڈھونڈ کر بتائیں کہ بچے کو کیا مسئلہ ہے؟ ۔سمجھانے کی کچھ کوشش کی کہ بیماری کی نوعیت کے بارے میں کچھ تو بتا دیں لیکن وہ مصر رہے کہ آپ خود پتا لگائیں۔پھر اپنے تجربے کی بنیاد پر پوچھنا شروع کیا کہ کوئی نہ کوئی سرا ہاتھ آہی جائے گا
 بخار تو نہیں ہو رہا؟
نہیں
کھانسی؟
نہیں
دستوں کی شکائیت؟
نہیں ہے
الٹیاں تو نہیں کرتا؟
نہیں
مٹی تو نہیں کھاتا 
نہیں
دودھ کون سا پیتا ہے؟
 بھینس کا پیتا ہے 
اب مجھے تشویش ہونے لگی کہ بظاہر کوئی بیماری بھی نہیں ہے اور صحت بھی اچھی ہے تو پھر کیا مسئلہ ہوسکتا ہے؟ اور میرے سوالوں کے جواب میں زیادہ لب کشائی کے وہ قائل نہیں تھے۔ بلکہ میرے سوال ان کوناگوار گزر رہے تھے۔
کوئی خارش یا الرجی کی شکائیت تو نہیں ہے؟ 
نہیں
بھوک ٹھیک لگتی ہے؟
جی اسکا تو سارا دن منہ بند ہی نہیں ہوتا 
رات کو سکون سے سوتا ہے؟
جی ہاں ساری رات میں صرف ایک بار اٹھ کر فیڈر پی لیتا ہے۔
اب میں اپنی ناکامی اوراپنے  اوپر اعتماد اور یقین کے درمیان ملزم بنا بیٹھا تھا ۔ اور اس یقین کے بھرم کو قائم رکھنے کی خاطر بتایا کہ آپ کا بچہ بالکل ٹھیک ہے پھر بھی یہ ایک ٹانک لکھ رھا ہوں، کچھ عرصہ استعمال کروائیں ۔
مرد نے پرچی میرے ہاتھ سے پکڑی اور کچھ کہے بغیر بیوی اور بچے کے ہمراہ باہر نکل گیا۔ کچھ دیر بعد وہ مرد میرے ڈسپنسر کے ساتھ دوبارہ اندر آیا۔ اور کہنے لگا فیس کس بات کی؟ ساری باتیں تو ہم سے پوچھیں اور اصل بیماری پھر بھی ڈھونڈ نہیں سکے۔ ہم لوگ تو اس لئےآئے تھے کہ اس کی پھوپھی نے شک کا اظہار کیا تھا کہ بچے کو تندوا ہے،جس کی وجہ سے  یہ زیادہ باتیں نہیں کرتا، اورآپ صحیح تشخیص نہیں کر سکے۔ میں نے ایک سرد آہ بھری اور ڈسپنسر کو کہا انہیں جانے دو۔ مرد نے میرا لکھا ہوا نسخہ میری میز پر پھینکا اور کمرے سے نکل گیا۔ اور میں دیر تک بیٹھا سوچتا رہا کہ میری غلطی کہاں پر تھی؟؟ کیا میں واقعی تشخیص کرنے میں ناکام ہوگیا تھا یا پھر اس کا ذمہ دار شعبہ طب کا وہ نظام ہے جو ڈاکٹرز کو نبض کے علوم  سکھانے میں ناکام ہے؟ نبض بھی مریض کی نہیں اس کے باپ کی
میم سین
تندوا= tongue tie

مشاہدات و واقعات



سکتے والی بات تو تھی ! میں کیا کہتا ؟ کیا جواب دیتا ؟۔ اپنا کیا ردعمل ظاہر کرتا؟ ۔ مجھے تو کچھ سجھائی ہی نہ دیا۔سب کچھ اتنا غیر متوقع اور اچانک تھا کہ میں ساری صورتحال کو سمجھ ہی نہیں پایا
تیز بخار ، کانپتے جسم اوراکھڑے ہوئے سانس کے ساتھ صفیہ بیگم جب پہلی بار میرے پاس آئی تھی۔تو شائد مارچ کا مہینہ تھا۔ جب میں نے چیک اپ کرنے کے بعد اسے دوائی لکھ کر دی تو اس کے آنکھوں میں آنسو آگئے اور کہنے لگی کہ بیوہ عورت ہوں ۔ گھر میں کمانے والا کوئی نہیں ۔دوا کے پیسے نہیں ہیں ۔ کچھ خدا ترسی کر دیں۔ میں نے پرچی پکڑی اور اس پر پر فری لکھ کراسے تھما دی کہ فکر نہ کریں ۔ دوائی مفت مل جائے گی۔ اور وہ ڈھیروں دعائیں دیتے ہوئے رخصت ہوگئی۔رمضان کے مہینے میں ایک بار پھر بخار کے ساتھ آئی اور اپنی دوائی لینے کے بعد کہنے لگی۔رمضان کا مہینہ ہے۔اپنی زکواۃ نکالتے وقت مجھے بھی یاد رکھیئے گا۔ اس وقت جو کچھ ہوسکتا تھا میں نے اس کی مدد کر دی۔ اور وہ ایک بار پھردعائیں دیتی رخصت ہوگئی۔ یہ کل دوپہر کی بات ہے۔ جب وہ میرے پاس آئی۔ لیکن اس بار وہ اکیلی نہیں تھی بلکہ اس کے ساتھ چہرہ کو چادر سے چھپائے اٹھارہ انیس سال کی جوان لڑکی بھی تھی۔ کرسی پر بیٹھتے ہی صفیہ بیگم نے اسے نقاب ہٹانے اور مجھے سلام کرنے کا کہا تو اس نے ہچکچاتے ہوئے چہرے سے کپڑا ہٹایا اور ایک جھجک اور حیا سے سلام کیا ۔میں اب بھی اس انتظار میں تھا کہ وہ لڑکی کی تکلیف یا بیماری کے بارے میں کچھ بتائے تو میں اپنی رائے دوں۔ لیکن صفیہ بیگم نے بیماری کی تفصیل میں جانے کی بجائے بتانا شروع کیاکہ یہ میری بڑی بیٹی روبینہ ہے۔ پانچویں پاس ہے۔ اور قران پاک بھی پورا پڑھا ہوا ہے۔ اور ماشاللہ اس برس اٹھارہ سال کی ہوگئی ہے، اتنی سگھڑ ہے کہ سارے گھر کو اسی نے سنبھالا ہوا ہے۔
جی اچھا میں نے کچھ نہ سمجھتے ہوئے بھی سر اثبات میں ہلایا اور پوچھا تو پھر؟ میرے پوچھنے پر اس نے لڑکی کو کمرے سےباہر جانے کو کہا اور کرسی کھینچ کر میرے قریب کر لی اور بولی ڈاکٹر صاحب آپ کے پاس ہزروں لوگ آتے ہیں ۔ کوئی مناسب خاندان دیکھ کر اس کیلئے کوئی اچھا سا رشتہ ہی ڈھونڈ دیں۔

مشاہدات و واقعات


اور اس دن جب تین ماہ کے بچے کو تیز بخار کے ساتھ دوبارہ میرے پاس لایا گیا تو والدین کی زبان پر ایک ہی شکوہ تھا کہ ہم تو بڑی امید کے ساتھ آپ کے پاس آئے تھے۔ تین دن پہلے دوائی لیکر گئے تھے لیکن ذرا سا بھی آرام نہیں آیا بلکہ بچے کی طبیعت تو پہلے سے بھی زیادہ خراب ہوگئی ہے۔میں نے پوچھا کہ جو دوائی میں نے دی تھی وہ ختم ہوگئی ہے؟ تو جواب آیا وہ تواس دن آپ کے کلینک سے گھر جاتے ہوئے گم ہوگئی تھی ۔لیکن بچے کا آپ سے چیک اپ کروایا تھا، کچھ تو فرق پڑنا چایئے تھا
لگتا ہے طبی علوم کے حصول کے ساتھ ساتھ مجھے سفلی علوم سیکھنے پر بھی توجہ دینی چاہیئے؟؟

مشاہدات و واقعات


کبھی کبھی مجھے لگتا ہے کہ میں اپنے پیشہ وارانہ امور کی سرانجام دہی میں ناکام ہوں۔ اور اس بات کا احساس، شدت سے ہوتا ہے ،جب میں مریضوں کے سوالوں کے سامنے لاجواب ہوجاتا ہوں ۔ ابھی کل کی ہی بات ہے کہ ایک خاتون دو ماہ کے بچے کو پیٹ میں درد اور بہت زیادہ رونے کی شکائیت کے ساتھ لے کر آئی ۔ میں نے جب بچے کے دودھ کے بارے میں پوچھا تو ماں نے جواب دیا، دودھ تو میں صرف ماں کا ہی دیتی ہوں لیکن ویسے یہ جو س بھی پی لیتا ہے اور دہی اور دلیا بھی شوق سے کھا لیتا ہے۔شہد بھی دے دہتی ہوں۔میں نے مسکراتے ہوئے کہا اسے یخنی بھی پلا دینی تھی۔ماں نے میرے طنز کو نظرانداز کرتے ہوئے بڑے اشتیاق سے پوچھا، ڈاکٹر صاحب دیسی مرغی کی یا پھر برائلر سے بھی کام چل جائے گا؟؟؟

مشاہدات و واقعات



اسے میں سادگی کہوں، بھولپن یا پھر جہالت سے تعبیر کروں ۔لیکن یہ حقیقت ہے کہ جب بھی ملک پاکستان کا ترقی یافتہ ممالک کے ساتھ موازنہ کیا جاتا ہے تو میں ہنس دیتا ہوں ۔ہم کس دور اور کس زمانے کے شعور میں جی رہے ہیں اور کونسی توقعات ان سے وابستہ کئے بیٹھے ہیں
کل میرے پاس تین دن کا ایک بچہ کافی سیریس حالت میں آیا۔جس کےجسم پر خاصی سوزش تھی اور کوئی خاص حرکت بھی نہیں کر رھا تھا۔ بچے کی صحت کے حوالے سے ان کو ساری صوتحال سے واضح کرنے کے بعد علاج شروع کر دیا۔دو گھنٹے بعد ڈسپنسر نے مجھے آگاہ کیا کہ بچے کے لواحقین بچے کو کوئی چیز سونگھا رہے ہیں۔ میں نے ان کو بلا کر جب اس ٹوٹکے کی وجہ پوچھی تو اپنی ہنسی نہ روک سکا اور بےاختیار بی بی سی کی چند دن پہلے معالجوں کی طرف سے غلط نسخے لکھنے والی رپورٹ کی طرف دھیان چلا گیا۔ ۔وہ بے چارے بھی اب کیا کریں!!! جب ان کا واسطہ ایسی سوچ کے ساتھ پڑتا ہو جو ابھی دسویں صدی میں جی رہے ہوں۔ ،بچے کا والد کہنے لگا ہمارے خاندان میں ایک عورت ہے وہ اکثر بے ہوش ہوجاتی ہے اور جب اسے امونیا سونگھایا جاتا ہے تو ہوش میں آجاتی ہے۔ ہم نے سوچا بچے کو بھی امونیا سونگھا کر دیکھ لیتے ہیں شائد اس کو بھی ہوش آجائے۔

مشاہدات واقعات

 ایک دن ایک صاحب ایک موٹی فائل کے ساتھ میرے پاس الٹراساؤنڈ کروانے آئے ۔فائل میں پہلے سے کوئی دس بارہ کے قریب الٹراساؤنڈ کی رپورٹس موجود تھیں۔جن میں دائیں گردے میں پتھری کی تشخیص کی گئی تھی۔بڑے مایوس لہجے میں کہنے لگے دس بارہ الٹرہ ساؤنڈ کروا لئے ہیں لیکن ابھی تک پتھری اپنی جگہ سے نہیں ہلی۔میرے سمجھانے پر کہ الٹراساؤنڈ کا کام تشخیص میں مدد دینا ہے اور آپ کے مرض کی تشخیص تو ہوچکی ہے اب اس کے علاج کیلئے بھی کوشش کریں۔کہنے لگے جے تیرے کول الٹراساؤنڈ نہیں ہے تو دس دے ایویں ، بہتیاں پہیلیاں نا بجھا(اگر تمہارے پاس الٹراساؤنڈ نہیں ہے تو بتا دو ۔ ادھر ادھر کی باتوں میں وقت ضائع مت کرو)

مشاہدات وواقعات



اورمیاں بیوی چھ ماہ کے بچے کو دستوں کی بیماری کے ساتھ میرے پاس دوبارہ لائے تو میں پوچھا کہ اس کو ڈبے کا دودھ شروع کیا تھا وہ کیوں بند کر دیا تو کہنے لگے نہیں جی  دودھ تو وہی استعمال کر رہے ہیں اور قمیض کی دائیں  جیب میں ہاتھ ڈال کا پلاسٹک کے شاپر کی ایک پوٹلی نکالی جس میں دو تین چمچ خشک دودھ کے تھے اوردوسری جیب سے کھانسی کے سیرپ کی خالی بوتل نکالی، جس کے اوپر نپل لگا ہوا تھا۔ میرے پوچھنے پر اس کا فیڈر کہاں ہے۔جواب آیا وہ تو گھر رکھ آئیں ہیں کہیں سفر میں گم نہ ہوجائے

مشاہدات وواقعات



ایک صاحب کمرے میں داخل ہوئے اور اپنے موبائل فون سے ایک نمبر ڈائل کرنے کے بعد میری طرف بڑھا کرکہنے لگے، یہ جی بات کرلیں۔ 
میں نے فون کاٹ کر پوچھا پہلے بتائیں تو سہی آپ کون ہیں؟ اور کس سے بات کروا رہے ہیں؟
۔ اس پر وہ صاحب بولے میری رشتے کی پھوپھی ہیں۔ان کو فالج ہوگیا ہے ۔ ان کو یہاں لانے والا کوئی نہیں ہے۔
میں نے سمجھانے کی کوشش کی کہ ایک مریض کو جو اتنا شدید بیمار ہو ، بغیر دیکھے کیسے دوائی دی جاسکتی ہے۔لیکن اس کا اصرار بڑھتا رھا۔جب مجھے قائل کرنے میں ناکام ہوئے توکہنے لگے ۔
ڈاکٹر صاحب آپ ڈبل فیس لے لیجئے گا

مشاہدات وواقعات



اماں جی نے کمرے میں داخل ہوتے ہی احسان جتایا ، ڈاکٹر صاحب آپ ہمیشہ شکوہ کرتے تھے میں وقت پرچیک اپ کروانے نہیں آتی۔ آپ نے پانچ دن بعد آنے کا کہا تھا میں پانچویں دن آگئی ہوں۔
میں نے کہا اچھی بات ہے ۔تشریف رکھیں۔ 
 پرچی ہاتھ میں پکڑی اور پوچھا  کہ طبیعت کیسی ہے؟ 
کہنے لگی بیماری کو تو کوئی خاص افاقہ نہیں ہوا لیکن آپ نے کہا تھا پانچویں دن ضرور آنا ہے اس لئے میں آگئی ہوں۔ 
اچھا دوائیاں ختم ہوگئی ہیں؟ میں نے پوچھا
تو جواب آیا دوائیوں والا شاپر تو میں اس دن میڈیکل سٹور پر ہی بھول گئی تھی لیکن آپ نے تاکید کی تھی کہ میں پانچویں دن ضرور آؤں اس لئے آج آگئی ہوں۔

مشاہدات وواقعات


 اس دن جب ایک آدمی اپنے بچے کو بخار کے ساتھ لیکر آیا تو میری اس وضاحت کو ایک طرف کردیا کہ کہ جب دوائی پلائی ہی نہیں تو آرام کیسے آسکتا ہے؟؟؟  اور 

بار بار ایک ہی جملہ دھرائے جارھا تھاآخر ایک ڈاکٹر کو چیک کروایا تھا کچھ تو آرام آنا چاہیئے تھا۔
اور اس دن جب ایک آدمی نے کمرے میں آتے ہی شکوہ کیا کہ آپ کی لکھی ہوئی دوائی دو بار خرید کر پلا دی ہے لیکن ذرا بھی آرام نہیں آیا ۔ لیکن میرے اس سوال کا جواب دینا گوارہ نہیں کیا کہ یہ تو چھ ماہ پرانی پرچی ہے؟ اورایک ہی بات پر ضد قائم رکھی کہ اس وقت  بخار تھا۔اس دوائی سے پہلے دن ہی بخار اتر گیا تھا  اوراب بھی بخار ہے تو یہی دوائی دو بار استعمال کر ڈالی ہے لیکن بالکل بھی آرام نہیں آیا۔

مشاہدات و واقعات




یہ  رات کا کوئی ایک بجا تھا جب میرے موبائل کی گھنٹی بجی ۔جب فون اٹھا یاتو کرخت لہجے میں ایک آدمی بولا
 علشباہ شام سے روئے جارہی ہے۔چپ ہی نہیں کر رہی۔۔۔ 
کون علشباہ؟ 
کہاں سے بول رہے ہیں؟ 
جی جمعہ کے روز آپ کو چیک کروایا تھا  
یاد رہے جمعرات کا دن شروع ہوچکا تھا۔بڑی مشکل سے پوری بات کو سمجھنے کے بعد ان کو ایک دو ٹوٹکے بتائے تو دوسری طرف سے یہ کہہ کر فون بند کر دیا گیااپنے مریضوں کو یاد بھی رکھا کریں

مشاہدات وواقعات



ضرورت ہے ایک ایسےنوٹس بورڈ کی، جو ہر کلینک میں موجود ہو۔ جس پر تنبیہ ہو کہ اپنی باری کے انتظار میں بیٹھے مریضوں کا آپس میں گفتگو کرنا سخت منع ہے ۔ورنہ ہمارے ہاں صورتحال یہ ہے کہ جب تک مریض کی باری نہیں آجاتی تب تک یقین سے کہنا مشکل ہوتا ہے کہ مریض ڈاکٹر سے چیک اپ کروا کر ہی کلینک سے نکلے گا۔ اگر باری آنے میں زیادہ دیر ہوجائے تو کسی پیر فقیر، حکیم یا کسی دوسرے قابل ڈاکٹر کی اطلاع بمع ایڈریس اور کرامات کے مل چکی ہوتی ہےیا پھر کوئی مجرب نسخہ ہاتھ آچکا ہوتا ہے ۔۔۔
اف توبہ ہے!!! پانچ دن کے بچے کو یوں لوگوں کے درمیان لیکر بیٹھی ہو، نظر لگ گئی تو؟؟؟ ۔۔۔۔۔ یہ کیا ؟    تم یہاں کس کے پاس علاج کروانے آگئے ہو، یہ پاس کی بستی میں ڈاکٹر جمن ہے نا۔اللہ نے بڑی شفا دے رکھی ہے،ان کے ہاتھ میں۔ بس ایک بار جائو دوبارہ دوائی لینے کی ضرورت نہیں پڑے گی !!! تو بھائی تم یہاں کیا کر رہے ہو؟؟  :) ۔۔۔۔ اوئے ہوئے۔بچے کو خسرہ نکلا ہوا ہے اور تم دوائی لینے آگئی ہو، اس کو منکا کھلائو۔۔کوئی سوگی کھلائو تاکہ اس کے دانے باہر نکلیں اوراس بات کا خصوصی خیال رکھو کہ بچے کو نہلانا ہر گزنہیں ہے۔۔۔شوگر کیلئے کریلوں کا پانی بہت مفید ہوتا ہے۔دوائی بند کرو اور آج سے ہی یہ نسخہ شروع کردو اور اگر کولیسٹرول بھی زیادہ ہے تو بھائی تھوم چبایا کرو اور ادرک کا پانی پیا کرو۔۔۔۔۔ مجھے تو تمہارے بچے پر سایہ نظر آرھا ہے، اسے ڈاکٹر کی نہیں کسی دم کرنے والے کی ضرورت ہے ۔۔۔ڈاکٹر تو ایسے ہی شوگر کو ہر تکلیف کی وجہ قرار دیتے رہتے ہیں۔ نیم کے پتوں والا پانی لو اور دن میں تین چار دفعہ زخم کو دھو دیا کرو۔ دیکھنا کیسے زخم ٹھیک نہیں ہوتا۔۔۔۔۔ تمہیں گرمی کا بخار ہے اور گرمی کا توڑ گرمی سے ہی ہوسکتا ہے اس لئے آم کا ملک شیک بار بار استعمال کرو۔۔۔۔۔تمہارے بچے کا سر بڑھ رھا ہے۔بابادھونی شاہ ہر جمعرات کو سر بڑھنے کا دم کرتا ہے۔بخار کی دوا بعد میں لے لینا۔ پہلے دم کروا لو کیونکہ آج جمعرات ہے۔۔۔۔ تمہارے بچے کو سوکڑہ ہے ، فلاں پیر صاحب کے پاس بڑ ا پکا دم ہے اس کا ۔۔۔۔۔ مجھے لگتا ہے تمہیں جگر کی گرمی ہے، اور ڈاکٹر نے دوائیاں لکھ چھوڑنی ہیں ، بہتر ہے گنے کا رس پیئو۔ میری پھوپھو کو بھی یہی علامتیں تھیں ۔ وہ اور بات ہے اللہ نے ان کی عمر ہی اتنی لکھی ہوئی تھی۔ ۔۔یہ کیا ؟؟ بخار میں روٹی کھاتے رہے اور اوپر سے گرم دوائیاں کھانے کیلئے ڈاکٹر کے پاس آگئے ہو۔۔۔کنجوانی موڑ والے حکیم شادے کی پھکی استعمال کرو۔جگر کی ساری گرمی دور   نہ ہوئی تو مجھے کہنا۔معدے کا سارا ضعف دور ہوجائے گا۔۔۔۔بواسیر ہے تو کیا ہوا۔توڑکمُوں کا رس نکال کر دن میں تین چار دفعہ استعمال کرو۔بواسیر رہے گی یا پھر۔۔۔۔۔ جگر اور معدے کا علاج تو ایلوپیتھک طریقہ علاج میں ہے ہی نہیں۔رات کواسپغول کا برادہ دودھ میں ڈال کر استعمال کیا کرو اور صبح کو باداموں کی سردائی نہار منہ پیا کرو ۔۔۔ گردے میں پتھری ہے تو یہاںکیا لینے آئے ہو؟ ہومیوپیتھک کے قطرے پیئو، تین دن میں پتھری نکل جائے گی۔گارنٹی کے ساتھ۔۔۔ڈاکٹر جو بھی دوائی کی مقدار بتائے اس سے آدھی لینا چاہیئے، ورنہ خواہمخواہ انتریوں میں خشکی ہوجائے گی۔۔۔ بچہ دو ماہ کا ہوگیا ہے اور ابھی تک دوسرا دودھ نہیں دیا؟ ابھی سے فیڈر شروع کر دو ، ورنہ بعد میں بڑی مشکل ہوگی۔ دودھ نہ سہی کوئی گلوکوز یا پھر شیزان کی بوتل ہی پلا دیا کرو۔۔۔۔
میم سین

مشاہدات واقعات

 ایک مریض نے بتایا کہ اسے کمر کی تکلیف تھی..بہت علاج کروایا...ایم آر آئی بھی ہوا ..بہت ڈاکٹر بھی تبدیل کرکے دیکھے لیکن نہ تو کسی کو بیماری سمجھ میں آئی اور نہ ہی کسی کی دوائی سے کوئی آرام آیا...
کسی نے اسے کچی لسی پینے کا مشورہ دیا...جس سے اس کی کمر کی تکلیف ٹھیک ہوگئی...اب دو سال سے وہ کچی لسی پر ہے...
میرے پاس وہ یہ پوچھنے آیا تھا کہ کیا کچی لسی زیادہ پینے سے اسے بواسیر ہوئی ہے؟؟؟؟

مشاہدات واقعات



جب اماں جی کو بتایا کہ آپ اپنے پوتے کو اب ماں کے دودھ کے ساتھ ساتھ دلیا شروع کر دیں تواماں نے فوراً بولیں 
کو نسا ؟
بازاری یا گھر والا؟
اگر گھر میں کوئی دلیا موجود ہے تو وہی استعمال کر لیں 
دلیا دودھ میں بنانا ہے یا پانی میں ؟
دودھ میں 
دودھ گائے کا ہو یا بھینس کا؟
 جو آ پ کو مل جائے
نہیں ۔آپ بتائیں؟ کون سا بہتر ہوتا ہے
پچھیا چنگا ہندا اے
جی گائے کا مل جائے تو اچھا ہے
دودھ ابال کر استعمال کرنا ہے یا کچا؟
 دودھ ہمیشہ ابال کر استعمال کرتے ہیں
اچھا اچھا
 پتڑ پچھیا چنگا ہندا ے
پتڑ اے دس، د لیا گرم کر کے کھلانا ہے یا ٹھنڈا کر کے؟
اس سے پہلے میں کچھ کہتا
اماں میرے چہرے کے تاثردیکھ کر فوراً بولیں
پچھیا چنگا ہندا اے۔۔۔۔۔

مشاہدات و واقعات



ڈائیریا کی شکایئت سے آنے والے مریض سے پوچھا
پہلے کوئی بیماری تو نہیں ہے؟
نہیں
بلڈ پریشر کی کوئی شکائیت ؟
نہیں
شوگر کا مسئلہ
نہیں
کوئی دوائی وغیرہ استعمال تو نہیں کر رہے؟
نہیں
میں نے چیک اپ کے بعد دوائیاں لکھ دیں تو مریض نے پوچھا 
انسولین کا استعمال جاری رکھوں؟

مشاہدات واقعات



نور محمد کو جب دوائی لکھ کر دی تو کچھ ہی دیر بعد میرے پاس  دوبارہ آیا اور پوچھنے لگا میں کیا کھاؤں ؟
میں نے جواب دیا کہ میں نے کھانے پینے میں کوئی پرہیز نہیں بتایا ہے اس لئے سب کچھ استعمال کر سکتے ہو
کینو کھا سکتا ہوں؟؟
کھا لو
لیکن وہ تو کھٹے ہوتے ہیں گلا تو پہلے ہی خراب ہے
میٹھے والے کھا لو
 میٹھے والے کینو ابھی بازار میں آنا شروع نہیں ہوئے
تو نہ کھاؤ کچھ اور کھا لو
کیلا کھا سکتا ہوں
جی بالکل
لیکن اس کی تاثیر تو بلغمی ہوتی ہے
تو پھر استعمال نہ کرو
دودھ پی لوں
جی پی سکتے ہیں
لیکن دودھ ریشہ پیدا نہیں کرے گا؟
آپ دودھ میں پتی ڈال لیں
لیکن پتی والا دودھ مجھے پسند نہیں
تو کچھ دن دودھ سے پرہیز کر لیں
چاول کھا سکتا ہوں
جی کھا سکتے ہیں
لیکن توچاول کھانے سے بلغم میں اضافہ نہیں ہوجائے گا
تو بھائی کچھ دن چاولوں سے پرہیز کر لو
تو پھر میں کیا کھاؤں ؟
انار کھا لوں؟
جی ضرور
لیکن انار کھانے سے میرا پیٹ خراب ہوجاتا ہے
آپ اس کا رس پی لیا کریں
رس پینے سے مجھے زکام ہوجاتا ہے
بھائی میں نے توآپ کو صرف سگریٹ اور حقہ استعمال کرنے سے روکا تھا اس کے علاوہ آپ ہر چیز استعمال کریں۔
لیکن ڈاکٹر صاحب بیس سال پرانی عادت کو کیسے چھوڑ سکتا ہوں۔۔۔۔

مشاہدات و واقعات



اس دن جب ایک خاتون گھر میں کسی کام کے دوران ہاتھ پر چوٹ لگنے کے بعد میرے پاس آئیں تو میں نے درد کی کچھ ادویات لکھ کر دیں اور پٹی کروانے کو کہا تو پٹی کروا کر محترمہ میرے پاس دوبارہ آئیں اور پوچھا 
آپ نے کوئی پرہیز نہیں بتایا۔۔۔
بس زخم کو پانی نہ لگنے دیں اور کسی خاص پرہیز کی ضرورت نہیں ہے
نہیں میرا مطلب تھا کھانے پینے کا پرہیز۔۔۔۔
کوئی پرہیز نہیں سب کچھ استعمال کر سکتی ہیں
یہ کیسے ہوسکتا ہے؟ کہ ڈاکٹر کے پاس جائیں اور پرہیز نہ ہو۔۔۔
میں نے ٹالتے ہوئے کہا کہ گوشت اور پھلوں کا استعمال زیادہ کریں
وہ تو میں پہلے ہی بہت کرتی ہوں۔کسی خاص چیز کا پرہیز بتائیں
میں نے پھر سمجھانے کی کوشش کی کہ معمولی سی چوٹ ہے اس کا کھانے پینے کی پرہیز سے کیا تعلق؟ لیکن جب مریضہ کا اصرار جاری رھا تو
میں نے کہاکہ پھر روٹی اور چاولوں سے پرہیز کرلیں
مریضہ کچھ بے یقینی میں بولی
آپ تو مذاق پر اتر آئیں ہیں۔۔۔
شروع کس نے کیا تھا!!!!

مشاہدات وواقعات



اس دن جب ایک خاتون گھر میں کسی کام کے دوران ہاتھ پر چوٹ لگنے کے بعد میرے پاس آئیں تو میں نے درد کی کچھ ادویات لکھ کر دیں اور پٹی کروانے کو کہا تو پٹی کروا کر محترمہ میرے پاس دوبارہ آئیں اور پوچھا 
آپ نے کوئی پرہیز نہیں بتایا۔۔۔
بس زخم کو پانی نہ لگنے دیں اور کسی خاص پرہیز کی ضرورت نہیں ہے
نہیں میرا مطلب تھا کھانے پینے کا پرہیز۔۔۔۔
کوئی پرہیز نہیں سب کچھ استعمال کر سکتی ہیں
یہ کیسے ہوسکتا ہے؟ کہ ڈاکٹر کے پاس جائیں اور پرہیز نہ ہو۔۔۔
میں نے ٹالتے ہوئے کہا کہ گوشت اور پھلوں کا استعمال زیادہ کریں
وہ تو میں پہلے ہی بہت کرتی ہوں۔کسی خاص چیز کا پرہیز بتائیں
میں نے پھر سمجھانے کی کوشش کی کہ معمولی سی چوٹ ہے اس کا کھانے پینے کی پرہیز سے کیا تعلق؟ لیکن جب مریضہ کا اصرار جاری رھا تو
میں نے کہاکہ پھر روٹی اور چاولوں سے پرہیز کرلیں
مریضہ کچھ بے یقینی میں بولی
آپ تو مذاق پر اتر آئیں ہیں۔۔۔
شروع کس نے کیا تھا!!!!

مشاہدات و واقعات


یہ چند دن پہلے کی بات ہے۔ جب ایک ادھیڑ عمر کا مرد ، قدرے جوان بیوی کے ساتھ میرے پاس کافی دور سے تشریف لائے۔

چیک اپ کے بعد میں نے بتایا کہ بظاہر تو مجھے کوئی بیماری نظر آرہی ۔کچھ ذہنی تناؤ دکھائی دے رھا ہے
ابھی میں نے اتنا ہی کہا تھا کہ مرد بولا
جس ڈاکٹر کے پاس جاتے ہیں سب یہی کہتے ہیں۔بھلا اسے کس بات کی ٹینشن ہوسکتی ہے؟اپنا گھر ہے۔ اپنی زمین ہے۔اللہ نے تین بچوں کی نعمت بھی دے رکھی ہے۔ ایک باغ بھی ہے۔
ڈکٹر صاحب آپ کا گھر کہاں پر ہے؟
جی میں کمالیہ رہتا ہوں
بڑی خوشی ہوئی یہ جان کر۔ میری چھوٹی پھوپھی کی شادی بھی کمالیہ ہوئی تھی
اچھی بات ہے۔
کس محلے میں رہتے ہیں؟
جی مناسب ہوگا اگر مریض کے بارے میں گفتگو کریں
مجھے تو لگتا ہے ۔اس کا جگر کام نہیں کر رھا ہے
میں کچھ ٹسٹ لکھ کر دیتا ہوں ۔
ٹسٹ تو ہم نے بہت کروائے ہیں۔لیکن پرانی رپورٹیں ساتھ لانا بھول گئے ہیں۔
آپ سرکاری نوکری بھی کرتے ہیں؟
جی نہیں
میں کچھ دوائیاں لکھ رھا ہوں۔پانچ دن استعمال کروا کر دوبارہ پرانی رپورٹس کے ساتھ چیک کروا لیں
یہ کلینک آپ کا اپنا ہے؟
میں نے سنی ان سنی کر دی
کتنے ملازم کام کرتے ہیں؟
جی یہ پرچی سنبھال لیں اور پانچ دن بعد مجھے دوبارہ چیک اپ کروائیں 
آپ ایک چھوٹے سے قصبے میں پریکٹس کر رہے ہیں۔کسی بڑے شہر میں کلینک کیوں نہیں بنایا؟
اور مریضہ کی صبح یا شام کی سیر کا اھتما م ضرور کریں۔
۔
۔
۔
کل جب وہ دوبارہ میرے پاس نشریف لائے تو مرد نے میرے دفتر میں داخل ہونے کے بعد پہلا سوا ل یہ کیا
یہ اسلام آباد نمبر والی گاڑی آپ کی ہے؟
جی ہاں
اسلام آباد کا نمبر کیوں لگوایا؟ہر سال ٹوکن لگونا پڑتا ہوگا
جی غلطی ہوگئی۔آئیندہ سے لاہور کا نمبر لگواؤں گا
آپ کے مریض کی طبیعت کیسی ہے؟ 
پہلے سے کچھ بہتر ہے
اورمیں ان کے پاس موجود پرانی رپورٹیں دیکھنے لگ گیا
سارا دن چپ چپ رہتی ہے۔کسی سے بولتی نہیں ہے۔ بچوں کو بھی خواہ مخواہ مارتی رہتی ہے۔
رپورٹیں تو سب نارمل ہیں۔
آپ کمالیہ سے روزانہ کلینک آتے ہیں یا یہاں بھی رہائش رکھی ہے؟
جی یہاں بھی رہائش ہے۔
جو دوائی میں نے تجویز کی تھی وہ جاری رکھیں اور مناسب ہو گا اگر مریضہ کا ماحول چند دن کیلئے تبدیل ہوجائے۔انہیں خوش رکھنے کی کوشش کریں۔
میں نے سنا ہے آپ کی شادی مرید والے ہوئی ہے؟؟
ایک ہفتے تک یہی دوائی استعمال کروائیں اور پھر دوبارہ چیک اپ کروائیں
یہ جو آپ کے دفتر میں اتنی کتابیں پڑی ہیں ، پڑھتے بھی ہیں؟
جی پڑھتا ہوں۔
آپ کو پڑھنے کا وقت کیسے مل جاتا ہے؟
جی شوق کی بات ہے۔
آپ ایک ہفتے بعد دوبارہ تشریف لائیں
ویسے میری بیوی کو آخر بیماری کیا ہے؟
جی آپ دوائی استعمال کروائیں ۔ویسے مجھے اس کی بیماری کی وجہ مل گئی ہے
میم۔ سین

مشاہدات و واقعات



کبھی کبھی میں سوچتا ہوں ممتا کے مسائل بھی عجیب ہوتے ہیں جن کو سمجھنا آسان کام نہیں ہے ۔وہ اپنے بچوں کو ہمیشہ پہلے درجے پر دیکھنا چاہتی ہے۔۔۔بچوں کی ناکامی ماں اپنی ناکامی سمجھتی ہے۔۔لیکن مقابلہ بازی اور غیر صحت مندانہ تقابل کی وجہ سے غیر ارادی طور پر ممتا شدت پسندی کا روپ ڈھال کر ایک مضحکہ خیز شکل اختیار کر لیتی ہے۔۔۔
اس کے چچا کے بیٹے کے دانت تو ساتوں مہینے نکل آئے تھے لیکن ہمارا ببلو تو نو مہینے کا ہوگیا ہے لیکن ابھی تک ایک بھی دانت نہیں نکالا۔
ہمارا مون دو لفظ بھی صحیح طرح سے ادا نہیں کرتا اوراس کی پھوپھو کی بیٹی اس کی ہم عمر ہے اور فر فر بولتی ہے۔
حامد صاحب کا بچہ چھ سال کا ہے اور دوسری جماعت میں ہے لیکن ہماراچاند بھی تو اس کا ہم عمر ہے لیکن ابھی پہلی جماعت میں ہے۔
ایک خاتون اپنے بچے کو میرے پاس لیکر آئی اور کہنی لگی کہ اس کو کیلشیم کی کمی ہے کوئی اچھا سا کیلشیم کا شربت تو لکھ دیں۔ میں نے حیرت سے پوچھا کہ محترمہ آپ کو اس کمی کا کہاں سے علم ہوا ؟تو تو کہنے لگی یہ مٹی جو بہت کھاتا ہے۔
ایک خاتون کا کہنا تھاکہ بچہ ویسے تو سب کچھ کھا لیتا ہے لیکن انڈہ شوق سے نہیں کھاتا کوئی ایسی دوائی دیں کہ یہ انڈہ شوق سے کھانا شروع کردے۔میں نے مسکراتے ہوئے کہا ، ہوسکتا ہے یہ اپنے ننہیال سے پیار کم کرتا ہو اس کی دوا بھی ساتھ ہی لکھ دیتا ہوں۔
ایک خاتون اپنی تین سالہ بچی کیلئے دوائی لینے آئیں کہ یہ بستر پر پیشاب کر دیتی ہے۔ میں نے پوچھا تو آپ چاہتی ہیں کہ یہ کموڈ کا ستعمال شروع کردے؟

ایک خاتون کا کہنا تھا اس کے بچے کیلئے کوئی ایسی دوائی تجویز کریں کہ اس کا دل پڑھائی میں لگنا شروع جائے۔ میں نے بے ساختہ پوچھا کونسے مضمون میں دل نہیں لگتا تاکہ اس کے مطابق دوائی تجویز کروں۔
آٹھویں جماعت کی ایک بچی کے بارے میں جب اس کی ماں نے انکشاف کیا کہاس کی بھوک پہلے سے بہت کم ہوگئی ہے اور سونے سے پہلے اپنا فیڈر مکمل نہیں کرتی۔ میں نے بے ساختہ پوچھا پہلے یہ بتائیں۔ اس کے ابا نے فیڈر چھوڑ دیا ہے؟
ایک خاتون چھ ماہ کے ایک بچے کے ساتھ جس کاوزن دس کلو تھا ۔ اس شکائیت کے ساتھ لائی تھی کہ اس کی بھوک پہلے سے بہت کم ہوگئی ہے اور صحت بھی پہلے جیسی نہیں رہی۔

مشاہدات و واقعات


پانچ چھ ماہ کے بچے کو چیک کرنے کے بعد اس کی ماں کو بتایا کہ بچے کو داخل کرنا بڑے گا .ایک تو بیماری زیادہ ہ پرانی ہے اوپر سے بچہ بھی بہت کمزور ہے۔پانی کی کمی ہے اس لئے بوتل اور انجکشن لگانا پڑیں گے۔ میری بات سن کر بچے کی ماں کے ساتھ آنے والی عورت فوراً بولی ۔ڈاکٹر صاحب آپ نے جو کرنا ہے وہ کریں ہمیں آپ پر بڑا اعتماد ہے۔ میں نے اپنے بچے کا علاج آپ سے کروایا تھا ۔ بالکل ہڈیوں کا ڈھانچہ تھا۔ لیکن آپ کے علاج سے ماشااللہ آپ کی طرح موٹا ہوگیا ہے۔
آج ایک ہفتہ ہوگیا ہے۔کھانے کا لقمہ میرے حلق سے نیچے نہیں اتر رھا۔۔

مشاہدات و واقعات



اماں جی کو دوائیاں لکھ کر دیں اور جب میں تاکید کر رھا تھا کہ یہ دوائیاں جاری رکھنی ہیں۔ایک ماہ سے پہلے دوائی بند نہیں کرنی ہے
۔ تو اماں جی بولیں کہ بیٹا کوئی قبض کیلئے بھی دوائی لکھ دو۔ کئی کئی دن پخانہ نہیں آتا۔
اماں کچھ اونچا سنتی تھیں اسلئے جب میں نے کہا کہ آجکل خربوزوں کا موسم ہے وہ کھایا کریں ۔قبض کیلئے اچھا ہوتا ہے۔
پوچھنے لگیں کیا کھاؤں؟؟ 
اس سے پہلے میں اپنی بات دھراتا۔اس کی بہو جو پاس ہی بیٹھی تھی اس کے کان میں اونچی آواز میں بولی۔ چاچی کل شام بھنڈی پکائی تھی اور تم نخرے کر رہی تھی۔ ڈاکٹر کہہ رھا ہےکہ بھنڈی زیادہ کھا یا کرو۔

مشاہدات و واقعات



ڈیڑھ ماہ کے بچے کے معائنے کے بعد ساتھ آنے والے جوڑے کو میں نے بتایا کہ بچے کو کوئی بیماری نہیں ہے بس کچھ سنبھالنے کی غلطیاں ہیں ۔ اکثر پہلے بچے میں مائوں سے ایسی غلطیاں ہوجاتی ہیں ۔
ویسے اس سے پہلے آپ کے کتنے بچے ہیں؟ 
ساتھ آئے نے بتایا 
!!!!ماشااللہ یہ ہمارا تیرھواں بچہ ہے

مشاہدات و واقعات


ہمارے پٹھان بھائی بھی بڑے دلچسپ لوگ ہیں۔ کل ایک پٹھان اپنی دو سال کی بچی کو چیک کروانے آیا۔
میں نے نام پوچھا تو کہنے لگا
کالگہ
مجھے نام سن کر کچھ اچنبھا ہوا اور پوچھا
خان صاحب اس نام کا مطلب کیا ہے؟
مطلب کا تو ہم کو پتا نہیں
ادھر ہمارے گھر سے صوابی کی طرف جائیں توراستے میں ایک گائوں آتا ہے۔
ہم کو اس کا نام اچھا لگتا تھا
اس لئےہم نے اپنی بیٹی کا رکھ دیا

مشاہدات و واقعات

واقعہ پیش آیا ہےکہ ایک بار پھر اپنے کلینک کے حوالے سے لکھنے پر مجبور ہوگیا ہوں۔
ایک سال کے انتہائی لاغر اور کمزور بچے کو میرے پاس لایا گیا ۔ جب میں اس کا چیک اپ کر رھا تھا تو نظر اس کے گلے میں پڑے لاکٹ پر پڑی جس میں ایک نوجون کی تصویر تھی۔ سیاہ بڑے بڑے بال، چھوٹی سے داڑھی اور موچھیں معمول سے کچھ بڑھی ہوئیں۔ 
میں نے پوچھا ۔اس کے گلے   میں کس کی تصویرلٹکا رکھی ہے؟
یہ ہمارے پیر صاحب ہیں۔

انہی پیر صاحب کی دعا سے اللہ نے یہ بچہ ہمیں عطا کیا تھا۔جب بھی بیمار ہوتا  تھا۔پیر صاحب کا دیدا رکروا دیتے تھے تو یہ شفا یاب ہوجاتا تھا۔ لیکن پچھلے تین مہینے سے یہ بار بار بیمار رہنے لگ گیا تو پیر صاحب نے اپنی تصویر عنائیت کر دی۔ چند دن تو یہ بالکل ٹھیک رھا۔لیکن کچھ دن بعد دوبارہ بیمارہونا شروع ہوگیا۔آج پیر صاحب نے کہا ہے کہ بچے کے اندر کمزوری زیادہ ہوگئی ہے اس لئے میری دعائوں کا اثر نہیں ہورھا۔ اسے کوئی ڈرپ لگوا کر لائو۔ کمزوری کچھ کم ہوگئی تو  اسےشفا نصیب ہوجائے گی۔ 

آپ کے پاس اسی کام سے آئے ہیں۔

مشاہدات و واقعات



آپ نے جتنی بھی رپورٹس مجھےدکھائی ہیں اورجو پرانے نسخے آپ کے پاس ہیں ان کے مطابق آپ کو کوئی بیماری نہیں ہے۔ 

بس آپ سوچا مت کریں اور تنہائی سے بچیں۔ گھر والوں سےباتیں کیا کریں اور اپنے آپ کو خوش رکھنے کی کوشش کریں۔
میری بات سن کے پینتیس چھتیس سال کی مریضہ نے جواب دیا۔ سب ڈاکٹر یہی کہتے ہیں۔ لیکن میں خود کو خوش کیسے رکھوں؟
میں نے پریشانی کی وجہ پوچھی تو بولیں
میرا شوہر۔
انہیں میرے ساتھ کوئی رغبت نہیں ہے
مجھے توجہ نہیں دیتے
اور نہ ہی میرا کوئی خیال رکھتے ہیں



اچھا تو یہ بات ہے۔
بچے کتنے ہیں آپ کے؟ میں نے صورتحال کو سمجھتے ہوئے پوچھا
تین بیٹے اور ایک بیٹی حیات ہیں۔ ایک بیٹا چھٹے مہینے فوت ہوگیا تھا۔
میم سین

مشاہدات وواقعات




میڈیسن کے آئوٹ ڈور میں ایک لڑکے نے  او پی ڈی میں ایک مریض  بابا جی کی ہسٹری لی اور پروفیسر صاحب کو  بتانا شروع کیا تو جونہی ہسٹری میں سگریٹ نوشی کا ذکر کیا تو انہوں نے سارے طالب علموں کو اکھٹا کر لیا اور سگریٹ کے نقصانات پر ایک طویل لیکچر دیا۔ جس میں سگریٹ سے لاحق امراض اور عارضوں پر انہوں نے کافی روشنی ڈالی۔ پروفیسر صاحب لیکچر دینے کے بعد کچھ دیر میں آنے کا کہہ کر کمرے سے چلے گئے
تو بابا جی نے پوچھا کہ یہ ڈاکٹر کون تھا؟ 
ہم نے بتایا یہ ہمارا سب سے بڑا ڈاکٹر ہے
تو بولا ایویں چولاں ماری جاندا، پتا ککھ دا نہیں، جدوں میں دس سالاں دا سی ، اودوں دا سگریٹاں پینداں پیاں ۔ہن میں اسیاں سالاں دا ہو چکییاں ، بارہ نیانیاں دا میں پیو آٰں، نے تھاڈا وڈا ڈاکٹر آخدا پیا اے کے سارا قصور تمباکو دا اے۔ اینو اے نہیں پتا کہ کھنگ مینوں ٹھنڈی کھیر توں ہوئی اے ، سگرٹاں توں نئیں
 ایسے ہی کہے جا رہا ہے۔ اس کو کچھ پتا نہیں ہے۔ دس سال کی عمر سے  سگرٹ پی رہا ہوں ۔ اور اب میری عمر اسی سال ہے ۔اور بارہ بچوں کا باپ ہوں۔ اور تمہارا ڈاکٹر سارا قصور تمباکو کو دیئے جا رہا ہے۔ اسے یہ بھی نہیں علم کہ مجھے کھانسی ٹھنڈی کھیر کھانے سے ہوئے ہے ، سگریٹ پینے سے نہیں

مشاہدات و واقعات



ملک وسیم صاحب بہت اچھے دوست ہیں ۔دلچسپ آدمی ہیں ۔دوستی نبھانا خوب جانتے ہیں ۔کہیں بھی کسی کی خوشی میں شرکت کرنا ہو یا پھر کہیں افسوس پر جانا ہو تو ہمیشہ ساتھ نبھاتے ہیں۔ یہ کل دوپہر کی بات ہے جب لوگ انہیں تقریباً بے ہوش حالت میں اٹھا کر میرے پاس کلینک پر لائے۔ معلوم ہوا کہ ایک جنازے پر گئے ہوئے تھے کہ شہد کی مکھیوں نے حملہ کر دیا۔ میں نے کچھ انجیکشن وغیرہ لگوائے ۔لگ بھگ ایک گھنٹے بعد اس قابل ہوئے کہ بات چیت کر سکتے۔ 
انہوں نے بتایا کہ جنازے کے بعد میں میت کے ساتھ قبرستان تک گیا ہوں۔ قبر پر مٹی ڈالنے کے بعد کسی نے اگربتیاں جلا کر کر قبرپر لگادیں ۔قبر کے بالکل اوپر درخت پر شہد کا چھتا لگا ہوا تھا۔ دھویں نے مکھیوں کو برانگیختہ کر دیا اور جنازے کے ساتھ آئے لوگوں پر حملہ کر دیا۔۔
میں نے ساری داستان سن کر بہت افسوس کا اظہار کیا اورکہا اگر آپ کو یاد ہو تو مرزا صاحب کے بیٹے کی شادی پر جب ایک شہد کی مکھی نے ہمیں تنگ کرنا شروع کیا تھا تو حاجی زکریا صاحب نے ایک مشورہ دیا تھا کہ جب بھی شہد کی مکھی حملہ کرے تو کبھی اس کی طرف ہاتھ سے اشارہ نہیں کرتے اور فوراً ساکت ہوجانا چاہیئے۔ مجھے لگتا ہے مکھیوں کے حملے کے وقت اس حفاظتی تدبیر عمل نہیں کیا۔ ملک صاحب نے روہانسی صورت بنا کر جواب دیا
میں نے تو عمل کیا تھا ۔ لیکن حاجی صاحب نے مشورہ صرف ہمیں دیا تھا ، شہد کی مکھیوں کو کچھ نہیں سمجھایا تھا

مشاہدات وواقعات



کل ایک بابا جی نے میرے پاس آکر بڑی لمبی تمہید باندھی

پتڑ! کچھ عرصہ پہلے مجھے پیشاب کا مسئلہ ہوگیا تھا... رک رک کر آتا تھا اور بہت کم آتا تھا۔... میں تمہارے پاس بھی آیا تھا اور شہر بھر کے ڈاکٹروں کو آزما کردیکھا ۔۔۔ مگر کوئی افاقہ نہیں ہوا۔۔۔۔۔ میرے بڑے بیٹے کا بیاہ کسووال ہوا ہے جب میری بیماری کا علم اس کے سسر کو ہوا تو اس نے مجھے فون کرکے کہا۔ فتح محمدا ۔اگر تجھے آرام نہیں آرھا تو میرے پاس آجا۔۔۔ ہمارے علاقے میں ایک بہت قابل حکیم ہے۔۔۔۔ مجھے تو پہلے ہی اندازہ ہوگیا تھا کہ میری بیماری کا علاج ڈاکٹروں کے بس کی بات نہیں ہے۔۔۔۔اس لئے اگلے روز ہی سراجے کے سسرال چلا گیا ۔۔حکیم نے نبض پکڑتے ہی کہا بابا جی تمہاری بوکی کام نہیں کر رہی۔۔۔ دو ہفتے کیلئے ایک سفوف استعمال کرنے کو دیا اور میں بھلا چنگا ہوگیا
چند لمحوں کیلئے میں بابا جی کی بات سن کر اپنے اوسان کھو بیٹھا تھا ۔جب کچھ حواس بحال ہوئے تو پوچھا بابا جی اب میرے پاس کیسے آنا ہوا؟
بابا جی جواب دیا
ذرا الٹراساؤنڈ کرکے بتاؤ میری بوکی اب ٹھیک کام کر رہی ہے؟
میم سین
(جو لوگ پنجابی سے واقف نہیں ہیں ان کیلئے عرض ہے کہ بوکی نلکے میں ایک پرزہ ہوتا ہے جو پانی کو اٹھا کر باہر پھینکتا ہے)

مشاہدات و واقعات



بظاہر دیکھنے میں آپ کوکوئی بیماری نہیں ہے۔ ۔۔۔۔ آپ کی رپورٹس بھی بالکل ٹھیک ہیں۔ ۔۔۔۔بس تھوڑا خوش رہنے کی کوشش کیا کریں۔ ۔۔۔ٹینشن کم لیا کریں۔۔۔ سب کے درمیان رہیں۔۔۔۔ تنہائی سے بچیں

لیکن ڈاکٹر صاحب مجھے کیا ٹینشن ہو سکتی ہے؟ 
اپنا گھر ہے ۔۔بچے ہیں۔۔ زمینیں ہیں۔۔ جائیداد ہے۔۔۔کاروبار ہے ۔۔ اللہ کا دیا سب کچھ ہے ۔۔۔
مجھے کیسے ٹینشن ہو سکتی ہے؟
خاوند نے بھی بے یقینی میں پوچھا۔۔
انہیں کیا ٹینشن ہو سکتی ہے؟؟؟؟
!!اب تو ہمارے چھوٹے بیٹے کی ضمانت بھی ہونے والی ہے جو قتل کے مقدمے میں اندرہے

واقعات و مشاہدات


بھکر کے علاقے میں ایک عطائی ڈاکٹر کے ہاں ایبٹ کمپنی کی ایک گولی ایری برون بہت لکھی جارہی تھی ۔ایریبرون کے بارے میں بتاتا چلوں ایک انٹی بائیوٹک ہے اور عام طور پر گلے کی خرابی ،کھانسی وغیرہ میں استعمال کی جاتی ہے۔بڑےسائز میں دستیاب ہے۔۔۔ 

کمپنی کی نئی انتظامیہ تعینات ہوئی تو انہیں تجسس ہوا کہ ایک بار اس پریکٹشنر سے ملا جائے جو کمپنی کو پورے علاقے میں سب سے زیادہ سیل دے رھا ہے۔۔ دور دراز کے ایک گائوں میں جب اسے ملنے پہنچے تو وہاں مریضوں کا ایک جم غفیر تھا۔ جب اسے بتایا گیا کہ دوائیوں کی کمپنی سے آئے ہیں تو اس نے بھرپور استقبال کیا۔ کمپنی کے سینئر نے اپنے روایتی انداز میں اپنی سیل مزید بڑھانے کیلئے بتایا کہ اس گولی کا استعمال کان کی انفیکشن اور جلد پر پھوڑوں اور پیشاب کی نالی کی سوزش کیلئے بھی کیا جاسکتاہے۔۔۔

یہ سن کر کوئیک نے بڑی حیرت سے پوچھا۔۔۔۔۔


تو کیا یہ طاقت کی گولی نہیں ہے ؟؟؟؟؟؟ْْ
میم سین
یہ واقعہ اسی کمپنی سے وابستہ ایک سابق نمائیندے نے سنایا ہے

بچوں کی نشوونما کے حوالے سے والدین میں پائی جانے والی توہمات اوران کی حقیقت


:بچوں کی نشوونما کے حوالے سے والدین میں پائی جانے والی توہمات
۔ہمارے ہاں چھ ماہ تک بچے کی ہر بیماری کی ذمہ داری ماں کے کھانے پینے پر ڈال دی جاتی ہے اور چھ ماہ کے بعد ہر بیماری کی جڑ دانت نکالنے کے عمل کو قرار دیا جاتا ہے۔۔۔۔۔۔
۔ماں کی سگھڑمندی اور سلیقہ شعاری کا معیار بچے کے سر کی گولائی میں پوشیدہ ہے۔۔۔۔۔
۔بچے کی رونے کی آواز نحوست ہوتی ہے اور بچے کا رونا ماں کی نااہلی ہے۔۔۔۔۔
۔بچوں کے ہراس رونے کی وجہ جو والدین ڈھونڈ نہ سکیں نظر لگنا ہوتی ہے۔۔۔۔
۔بچے کے جسم پر سفید دھبے کیلشیم کی کمی کا واضح ثبوت ہے۔۔۔۔
۔بچے کے سبز پخانے ٹھنڈ لگنے کی نشانی ہوتے ہیں۔۔۔۔
۔بچوں کی تیل کے ساتھ جتنی مالش کی جائے گی ، اس کی ہڈیاں اتنی مضبوط ہونگی۔۔۔۔
۔بچوں کو ٹھنڈ لگنے سے بچانے کیلئے اسے پانی سے جتنا دور رکھ سکیں، اتنا اچھا ہے۔۔۔۔
۔اگر ماں کپڑے دھونے یا نہانے کے فورا بعد بچے کو دودھ پلا دے تو بچے کو ٹھنڈ لگ جاتی ہے۔۔۔۔
۔بچے کو ٹھوس غذا جتنی جلد شروع ہو سکے، شروع کر دینی چاہیئے۔۔۔
۔ماں کے دودھ کے ساتھ بچے کو فیڈر کا استعمال لازمی شروع کروا دینا چاہییے ورنہ بچہ بڑا ہو کر دوسرے دودھ کی طرف توجہ نہیں کرتا۔۔۔۔۔۔
۔بچے کی دوائی اگر ماں کو کھلا دی جائے تو وہ دودھ کے ذریئے بچے میں منتقل ہو جاتی ہے۔۔۔۔۔
۔بچے میں مٹی کھانے کا رجحان پیٹ کے کیڑوں اور کیلشیم کی کمی کی وجہ سے ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔
۔سر کا بڑھنا اورسوکڑہ ایسی بیماریاں ہیں جن کا علاج صرف دم ہے۔۔۔۔
۔بچے کی اچھی صحت چار عرق، گھٹی یا گرائپ وااٹر کے استعمال کے بغیر ممکن نہیں۔۔۔۔۔
۔بچوں کو دوائی نقصان پہنچا سکتی ہے ہمیشہ ڈاکٹر کی تجویز کردہ مقدار سے کم استعمال کروانا چاہیئے۔۔۔۔۔
:حقیقت

اگر بچہ ماں کا دودھ پی رھا ہے تو اس اسکی ماں کے کھانے پینے سے اس کے ہاضمے پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ اس کا نہ تو سائنٹفک ثبوت موجود ہے اور نہ ہی عملی زندگی میں اس کا آپس میں کوئی تعلق ہے۔اس کی وجہ شائد ہماری عام زندگی میں ہر بیماری کا منبع ڈھونڈنے کی خود ساختہ عادت ہے۔ جیسے نزلہ کھانسی سے لیکر گلے کی خرابی تک اورجسم کی الرجی سے لیکر پیٹ کی خرابی تک کوئی نہ کوئی وجہ ڈھونڈی ہوتی ہے۔ جو کبھی درست بھی ہوتی ہے لیکن اکثر اوقات وہم زیادہ ہوتا ہے۔
رہ گئی بات دانت نکالنے کے عمل کی، تودانت نکالنے کے دنوں میں زیادہ سے زیادہ بچہ چڑچڑا اور ضدی ہو جاتا ہے۔ اور اس ٹینشن میں ایک سے دو پخانے معمول سے زیادہ سکتے ہیں۔ دوسری وجہ جو ہو سکتی ہے وہ یہ کہ بچہ ہر چیز منہ میں ڈالنے کی کوشش کرتا ہے ۔ اور اس کوشش میں کوئی جراثیم اپنے اندر منتقل کر لیتا ہے۔
ناصرف اپنی زندگیوں بلکہ بچوں کو فطرت کے قریب رکھیں۔۔۔ بچے کا رونا فطرت ہے اسے خوب رونے دیا کریں۔ ۔ رونے سے بچے کی ورزش ہوتی ہے اور اور اس سے بچوں کا ہاضمہ اور صحت ہمیشہ اچھی ہوتی ہے۔۔ روتے ہوئے جب بچہ اپنے سر کو بستر پر گھماتا ہے تو اس کا سر خود ہی گول ہوتا ہے اس کیلئے ریت کی تھیلیوں یا کسی گتے کے تکیے کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔۔
بچوں کے بلا وجہ رونے کی وجوہات بیماری کے علاوہ بھی کچھ ہو سکتی ہیں ۔ بھوک کی وجہ سے، پیمپر والی جگہ پر ریش کا ہونا، مناسب وقفے کے بغیر بار بار دودھ پلانے کی وجہ سے یا بچے کو بہت زیادہ ہاتھوں میں رکھ کر ہلانے کی وجہ سےپیٹ میں ہوا کا بھرنا، موسم کے مطابق کپڑوں کا نہ ہونا، ہر وقت بہت زیادہ لپیٹ کر رکھنا، گرمیوں میں نہانے سے دور رکھنا، ، 
بچے کا رونا نحوست نہیں بلکہ اس میں بچے کی صحت مندی پوشیدہ ہوتی ہے۔ ایسے بچے جن کو مناسب رونے کے بعد دودھ دیا جائے ان کی صحت اور نیند ہمیشہ اچھی ہو گی
بچوں کے جسم پر سفید دھبے کیلشیم کی کمی کی وجہ سے نہیں بلکہ اس کی سب سے بڑی وجہ ایک قسم کی فنگس ہوتی ہے
سبز پخانے کی میڈیکلی کوئی خاص اہمیت نہیں ہوتی۔ بچوں کے پخانے کی ساخت اور رنگت بدلتی رہتی ہے۔ 
عام طور پر گھروں میں جتنی توجہ مالش پر دی جاتی ہے ۔ اس کی بجائے بچے کو کچھ دیر رو لینے دیا جائے تو اس سے حاصل ہونے والی ورزش بچے کیلئے زیادہ مفید ہوسکتی ہے میرے تجربے کے مطابق تو ایسے بچے جن کی مالش کی گئی اور ایسے بچے جن کی نہیں کی گئی، دونوں کی صحت میں کوئی فرق نہیں دیکھا۔اور نہ ہی اس کا فائدہ میڈیکلی ثابت شدہ ہے ۔۔
میں نے تو ایسے گھر بھی دیکھے ہیں جن کے گھر کھانے کو کچھ نہیں لیکن بچے کی مکھن کے ساتھ روزانہ مالش کی جاتی ہے ۔
بچے کو خواراک کی کمی ہوتی ہے اور اس کی صحت مالش کی ذریئے بنائی جارہی ہوتی ہے۔۔ اس کیلئے مکھن کا استعمال، دم کیا ہوا تیل استعمال کیا جاتا ہے۔۔ 
آجکل فیس بک سے زیتون کے فوائد پڑھ کر اس کی مالش کرنے کا بھی کافی ٹرینڈ ہوچکا ہے
بچوں کو نہلانے سے بھی ان کو ٹھنڈ نہیں لگتی تو ماں کے نہانے یا اس کے جسم کے گیلا ہونے سے بچے کو کیسے ٹھنڈ لگ سکتی ہے؟ نہلانے کے بعد ہمیشہ جسم خشک ہونے تک مناسب کپڑوں میں لپیٹ کر رکھا جائے تو کبھی ٹھنڈ نہیں لگے گی
ماں کے دودھ کا کوئی متبادل نہیں ہے۔۔
اگر بچہ صرف ماں کا دودھ پی رھا ہے اور اس کی صحت اچھی ہے تو اس کی ابتدائی خوراک کو چھ ماہ سے موخر کرکے ساتویں آٹھویں مہینے تک لے جائیں۔۔ ایسے بچے ناصرف تندرست رہیں گے بلکہ ایسے بچوں کی قوت مدافعت زیادہ اچھی ہوگی۔۔۔
میرے مشاہدے میں "صرف" ماں کا دودھ پینے والے بچے ہمیشہ خوش اخلاق ہوتے ہیں۔
بچے کو فیڈر کے استعمال سے جتنا زیادہ بچا سکتے ہیں بچا لیں۔ کیونکہ بچوں میں بیماریوں کی ایک بڑی وجہ فیڈر کی مناسب صفائی نہ ہونا ہوتی ہے
ماں کے دودھ کے ذریئے کچھ دوائیوں کی تھوڑی سی مقدار بچے کے پیٹ میں جا سکتی ہیں لیکن اس کا مطلب یہ ہر گز نہیں کہ بچے کیلئے تجویز کردہ دوائی ماں کو کھلا دی جائے
مٹی کھانے کا پیٹ کے کیڑوں یا کیلشیم کی کمی سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ یہ ایک عادت ہوتی ہے جو سیکھنے کے عمل کے دوران ہر چیز منہ میں ڈالنے کی وجہ سے بچے اپنا لیتے ہیں۔ چونکہ مٹی ہر جگہ میسر آتی ہے اس لئے زیادہ تر بچے اس کا شکار ہوتے ہیں ۔ورنہ اگر بچے کو ریت دستیاب ہو ، کاغذ دسترس میں آئیں یا دیواروں کا چونا میسر آجائے تو وہ ان کو کھانے کی عادت میں بھی مبتلا ہوجاتے ہیں۔۔
عام طور پر مٹی چھڑوانے کیلئے دوائیوں پر اصرار کیا جاتا ہے ۔یہ ایسے ہی ہے جیسے ماں ضد کرے کی بچہ ننھیا ل والوں سے کم پیار کرتا ہے اس کیلئے کوئی دوائی تجویز کریں

چھٹے ماہ کے بعد عام طور بچے کی گروتھ کے ساتھ جسم اور سر کا تناسب اس طرح ہو جاتا ہے کہ دیکھنے میں سر کچھ بڑا دکھائی دیتا ہے جو لگ بھاگ سال کی عمر کو پہنچنے پر ختم ہوجاتا ہے۔ لیکن اگر سوا سال کے بعد بھی فرق محسوس ہو تو توجہ دینا چاہیئے ۔ اور بچے کو کسی ماہر ڈاکٹر کو ضرور چیک کروا لینا چاہیئے۔ کیونکہ کیلشیم اور وٹامن ڈی تھری کی کمی کی وجہ سے ایسا ہو سکتا ہے
سوکڑہ غذائی قلت کی بیماری ہے۔ بچوں میں کسی بیماری کی موجودگی کی وجہ سے بھی ہو سکتی ہے اور عدم موجودگی میں بھی جیسے فیڈر کا دودھ بہت پتلا دینا اور دودھ سے زیادہ عرق اور دوسری چیزوں کے استعمال ۔اس لئے بچوں مین سوکڑے کی علامات نظر آئیں تو دم کئے ہوئے پانی پلانے کے ساتھ کسی ڈاکٹر سے چیک اپ ضرور کروائیں۔
دوائی کی ہمیشہ تجویز شدہ مقدار میں دیں۔ اور دوائی کی اس مقدار کو تجویز شدہ میں شامل کریں جو بچے کے پیٹ میں چلی جائے، جو دوائی بچہ نکال دے یا پلانے کے عمل میں گر جائے ، اتنی مقدار مزید دیں

بچوں کو غیر ضروری خاندانی ٹوٹکوں سے بچائیں،روایتی اور غیر تصدیق شدہ نسخے بچے کیلئے نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں
میم سین

مشاہدات و واقعات

ایک چھ ماہ کے بچے کو کو لایا گیا جس میں پانی کی شدید کمی ہو چکی تھی۔اس کے ساتھ کمزور سی ماں جس کے دونوں ہاتھوں پر برینولا دیکھ کر میرے...