سخت گرمی کے موسم میں میاں بیوی میرے پاس آئے۔ بیوی کو الرجی کی شکائیت تھی دوائی لکھنے کے بعد میں نے دن میں تین چار بار نہانے کا مشورہ بھی دیا۔ مشورہ سن کر خاوند ہنس کر بولا ڈاکٹر صاحب آپ نے دن میں تین چار بارکہا ہے یہ تو اس گرمی میں بھی ہفتہ ہفتہ نہیں نہاتی۔ اس کی بات سن کر میرے منہ سے بے اختیار نکل گیا جو اس کی سمجھ میں آیا یا نہیں لیکن میں یاد کر کے اکثر مسکرا پڑتا ہوں ’’ تو اس میں قصور تو تمہارا ہوا نا
بابا فضل کو اس کا بیٹا کمر درد کے ساتھ لایا تو چیک اپ کے بعد دوئی کی پرچی لیکر باپ بیٹا کمرے سے چلے گئے تو تھوری دیر بعد بیٹا کمرے میں دوبارہ داخل ہوا اورکہنے لگا ڈاکٹر صاحب ابا جی کی بیماری کے بارے میں کچھ حقیقت کرنا تھی میں نے کہا بتاؤ تو کہنے لگا۔۔ شادی تو پچھلے مہینے میری ہوئی ہے ۔بڑھاپے میں اب اماں ابا کی عمر اجازت نہیں دیتی اور صحت بھی وہ نہیں رہی ۔کمر میں تکلیف ہی ہوگی نا ، کچھ آپ ہی ان کو سمجھائیں
ہمارے ہاں دیوروں پر لکھے اشتہاروں، ٹی وی اور دوسرے میڈیا کے ذریعے بنائی گئی ذہنی پستی کی فضا نے ہمارے نوجوانوں کو کس قدر متاثر کیا ہے اس کا اندازہ اس واقعے سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔ ایک نوجوان کو جس کی ایک ہفتے بعد شادی تھی اور پچھلے تین دن سے پیٹ درد اور الٹی کی شکائیت سے سرکاری ہسپتال میں داخل رہنے کے بعد بھی اس کی طبیعت نہ سنبھلی تو میرے پاس لایا گیا۔ تمام رپورٹیں بھی نارمل تھیں اور بظاہر صحت اور علامتوں میں تعلق بھی دکھائی نہیں دیتا تھا۔ باپ کو اس کی جلد صحت یابی کی فکر اس لئے بھی تھی کہ لڑکی والے انگلینڈ سے آئے تھے اور تاریخ التوا میں نہیں ڈالی جا سکتی تھی۔ جب میں نے واضح لفظوں میں بتایا کہ مجھے تو لڑکے کی بیماری سارا ڈرامہ لگ رہا ہے تو اس کے ایک دوست نے دفتر میں آکر تصدیق کی آپ کی بات صحیح ہے، وہ حکیم صاحب سے شادی کورس کر رہا ہے ا ور ابھی حکیم ٖصاحب نے اجازت نہیں دی اور اس کے باپ نے بغیر مشورہ کے تاریخ بھی طے کر دی ہے۔
بارات جیسے ہی واپس لوٹی امجد صاحب سب سے دامن چھڑا کر میرے پاس گھر پر آگئے اور کہنے لگے کوئی اچھی سی دوا دو۔ کچھ سمجھانے کی بحث سے بچتے ہوئے گھر سے بسکوپین کی دو گولیاں پتے سے نکال کر اسے لا کر دیں اور کہا اسے دودھ کے ساتھ استعمال کر لینا۔ اس گولی نے کیا افادیت دکھائی اس کا اندازہ چند دن بعد رات کو ایک سجے سجائے نوجوان کو اپنے گھر کے دروازے پر موجود پا کر ہوا جس نے کہا آپ کو امجد صاحب کا فون تو آیا ہی ہوگا ۔ ۔۔۔
No comments:
Post a Comment