Wednesday, November 22, 2017

مشاہدات و واقعات



جس دن لطیفاں مائی کو اکڑے جسم، ٹیڑھے منہ،رال میں بھیگے ہونٹوں اور آسمان کی طرف دیکھتی ساکت نظروں کے ساتھ میرے پاس لایا گیا تو ایک لمحے کیلئے تو مجھے بھی یوں لگا کہ موت کا فرشتہ کہیں قریب ہی انتظار کر رہاہے۔ ساتھ ایک جمِ غفیر تھا،کوئی سورہ یاسین پڑھ کر پھونکیں مار رہا تھا تو کوئی تسبیح کے دانے گرا کروظیفہ کر رہا تھا لیکن  سب میں مشترک بات یہ تھی کہ سبھی مائی کی موت کی آسانی کیلئے دعا کر رہے تھے۔ضروری معائنے کے بعدمجھے اندازہ ہوگیا کہ مریضہ سائکو ہے اور ساری کیفیت خود ساختہ ہے۔کچھ ذہنی سکون کی ادویات اور کچھ  ٹوٹکے  بھی برتے   لیکن مریضہ کچھ ایسی ڈھیٹ واقع ہوئی کہ کسی حربے کو کامیاب نہ ہونے دیا۔ جب اس کی گلے سے نکلتی کراہ او ر لوگوں کی بے چینی ناقابل بردا شت ہو گئی تو تو میں نے اپنے ڈسپنسر راشد کو بلایا اور  کہا اس کے بازو پر پانی کے ٹیکے لگانے شروع کر دو۔ ابھی پہلا ٹیکہ ہی لگا تھا کہ لطیفاں مائی چیخ مار کر اٹھ کر بیٹھ گئی اور حیرانی سے ارد گرد جمع لوگوں کو دیکھنے لگی اتنا ہجومِ پریشاں دیکھ کر مائی نے سین دوبارہ دہرانے کا ناٹک شروع ہی کیا تھا کہ میں نے راشد کو آواز دی۔ میری آواز سنتے ہی اس نے آنکھیں کھول دیں اور ہاتھ جوڑ کربولی میں ٹھیک ہوں اور جوس ، بسکٹ کھا کر اپنی صحت یابی کا یقین دلایا۔ ہمراہ آئے بیسیوں لوگ اس زندہ معجزے کو دیکھ کر انگشت بنداں تھے ۔ زباں زد عام اس معجزاتی ٹیکے کا ذکر تھا اور اگلے کئی دن تک کلینک پر لقوے اور فالج کے مریضوں اور پیدائشی معذور بچوں کا ہجوم رہا ۔ اب بھی کبھی کبھا ر لوگ ٹیڑھا منہ سیدھا کرنے والا ٹیکہ لگونے آجاتے ہیں

No comments:

Post a Comment

مشاہدات و واقعات

ایک چھ ماہ کے بچے کو کو لایا گیا جس میں پانی کی شدید کمی ہو چکی تھی۔اس کے ساتھ کمزور سی ماں جس کے دونوں ہاتھوں پر برینولا دیکھ کر میرے...