Wednesday, November 22, 2017

مشاہدات و واقعات




اس واقعے کے بعد جب حاجی مقبول صاحب نے ہاتھ آگے بڑھا دیا اور نبض دیکھ کر مرض بوجھنے کو کہا تو میں نے کچھ دیر تک نبض دیکھی اور پھر ہاتھ نبض پر رکھے اپنے کمپیوٹر پر فیس بک دیکھنے میں مصروف ہو گیاحاجی صاحب کچھ دیر تو انتظار کرتے رہے پھر گویا ہوئے 
 پتڑ کی کرن ڈیاں ہویاں۔تیرے کولوں ھالے نئیں میری بیماری بجھی نئی گئی۔ او میں خربوزے کھا کے اتوں پانی پی لتا سی جیدی وجہ توں مینوں ہیضہ ہو گیا سی؟
بیٹا کیا کر رہے ہو۔میری بیماری ابھی تک ڈھونڈ نہیں پائے۔میں نے خربوزے کھا کر اوپر سے پانی پی لیا تھا جس کی وجہ سے ہیضہ ہوگیا ہے 
میں نے فورا جواب دیا 
بماری تے میْں لب لئی سی پر ۔میں خربوزے دی قسم لبھن ڈیا ہویا سی۔۔تاکہ سہی دوا دے سکاں۔
بیماری تو میں نے ڈھونڈ لی تھی لیکن میں خربوزے کی قسم تلاش کر رھا تھا
 حاجی مقبول صاحب میری قابلیت کی داد دیتے ہوئے پرچی لئے کمرے سے رخصت ہوئے تو دیر تک مسکراہٹ میرے لبوں اور آنکھوں سے نمودار ہوتی رہی

No comments:

Post a Comment

مشاہدات و واقعات

ایک چھ ماہ کے بچے کو کو لایا گیا جس میں پانی کی شدید کمی ہو چکی تھی۔اس کے ساتھ کمزور سی ماں جس کے دونوں ہاتھوں پر برینولا دیکھ کر میرے...