اور اس دن جب تین ماہ کے بچے کو تیز بخار کے ساتھ دوبارہ میرے پاس لایا گیا تو والدین کی زبان پر ایک ہی شکوہ تھا کہ ہم تو بڑی امید کے ساتھ آپ کے پاس آئے تھے۔ تین دن پہلے دوائی لیکر گئے تھے لیکن ذرا سا بھی آرام نہیں آیا بلکہ بچے کی طبیعت تو پہلے سے بھی زیادہ خراب ہوگئی ہے۔میں نے پوچھا کہ جو دوائی میں نے دی تھی وہ ختم ہوگئی ہے؟ تو جواب آیا وہ تواس دن آپ کے کلینک سے گھر جاتے ہوئے گم ہوگئی تھی ۔لیکن بچے کا آپ سے چیک اپ کروایا تھا، کچھ تو فرق پڑنا چایئے تھا
لگتا ہے طبی علوم کے حصول کے ساتھ ساتھ مجھے سفلی علوم سیکھنے پر بھی توجہ دینی چاہیئے؟؟
No comments:
Post a Comment