پچھلے ایک ہفتے کے دوران اپنے پیشہ وارانہ امور کی انجام دہی کے دوران دو بار ایسے مواقع پیش آئے ہیں کہ جب میں سر پکڑ کر بیٹھ گیا ہوں اور میرے پاس اس ساری صورتحال پر پیش کرنے کیلئے کوئی مناسب رد عمل موجود نہیں تھا۔پہلی بار تو تب ہوا۔جب ایک عورت جو اپنے پندرہ دن کے بچے کو دستوں کی شکائیت کے ساتھ لائی تو میں نے اس کی ماں کو سمجھایا کہ بچہ ٹھیک اس کے سنبھالنے میں کچھ مسئلے ہیں ان کو حل کریں تو یہ انشاللہ ٹھیک ہوجائے گا۔
بچے کو صرف ماں کا دودھ دینے کی سختی سے ہدائت کی اور دوسری ضروری باتیں سمجھائیں تو ماں بولی عرق دے دیا کریں
میں کہا نہیں،
گرائپ واٹر ؟
میں کہا ضرورت نہیں۔
وہ پھر بولی اس کو شہد دے دیا کریں؟
میں جواب دیا اس کی بھی ضرورت نہیں ہوتی اور ایک بار پھر سمجھاتے ہوئے کہا کہ بی بی میں نے آپ کو ایک بار جب سمجھا دیا ہے کہ کہ اس کو چھ ماہ عمر تک ماں کے دودھ کے علاوہ کوئی چیز کھانے کو نہیں دینا تو اس کا کیا مطلب ہوا؟
ا س پر بچے کی ماں بولی کہ یہ آم کا جوس بڑے شوق سے پیتا ہے وہ دے دیا کروں ؟ اور اس سے پہلے میں کوئی جواب دے پاتا ، اس کی ساس جو اس کے ساتھ آئی تھی بولی، میں نے تو اس کو منع کیا تھا کہ آم کا جوس نہ دیا کرو آم گرم ہوتا ہے اس کو لسی دیا کرو ، وہ ٹھنڈی ہوتی ہے۔ مگر میری تو کوئی بات یہ سنتی ہی نہیں ہے۔۔۔۔۔
بچے کو صرف ماں کا دودھ دینے کی سختی سے ہدائت کی اور دوسری ضروری باتیں سمجھائیں تو ماں بولی عرق دے دیا کریں
میں کہا نہیں،
گرائپ واٹر ؟
میں کہا ضرورت نہیں۔
وہ پھر بولی اس کو شہد دے دیا کریں؟
میں جواب دیا اس کی بھی ضرورت نہیں ہوتی اور ایک بار پھر سمجھاتے ہوئے کہا کہ بی بی میں نے آپ کو ایک بار جب سمجھا دیا ہے کہ کہ اس کو چھ ماہ عمر تک ماں کے دودھ کے علاوہ کوئی چیز کھانے کو نہیں دینا تو اس کا کیا مطلب ہوا؟
ا س پر بچے کی ماں بولی کہ یہ آم کا جوس بڑے شوق سے پیتا ہے وہ دے دیا کروں ؟ اور اس سے پہلے میں کوئی جواب دے پاتا ، اس کی ساس جو اس کے ساتھ آئی تھی بولی، میں نے تو اس کو منع کیا تھا کہ آم کا جوس نہ دیا کرو آم گرم ہوتا ہے اس کو لسی دیا کرو ، وہ ٹھنڈی ہوتی ہے۔ مگر میری تو کوئی بات یہ سنتی ہی نہیں ہے۔۔۔۔۔
No comments:
Post a Comment