Wednesday, November 22, 2017

مشاہدات وواقعات




میڈیسن کے آئوٹ ڈور میں ایک لڑکے نے  او پی ڈی میں ایک مریض  بابا جی کی ہسٹری لی اور پروفیسر صاحب کو  بتانا شروع کیا تو جونہی ہسٹری میں سگریٹ نوشی کا ذکر کیا تو انہوں نے سارے طالب علموں کو اکھٹا کر لیا اور سگریٹ کے نقصانات پر ایک طویل لیکچر دیا۔ جس میں سگریٹ سے لاحق امراض اور عارضوں پر انہوں نے کافی روشنی ڈالی۔ پروفیسر صاحب لیکچر دینے کے بعد کچھ دیر میں آنے کا کہہ کر کمرے سے چلے گئے
تو بابا جی نے پوچھا کہ یہ ڈاکٹر کون تھا؟ 
ہم نے بتایا یہ ہمارا سب سے بڑا ڈاکٹر ہے
تو بولا ایویں چولاں ماری جاندا، پتا ککھ دا نہیں، جدوں میں دس سالاں دا سی ، اودوں دا سگریٹاں پینداں پیاں ۔ہن میں اسیاں سالاں دا ہو چکییاں ، بارہ نیانیاں دا میں پیو آٰں، نے تھاڈا وڈا ڈاکٹر آخدا پیا اے کے سارا قصور تمباکو دا اے۔ اینو اے نہیں پتا کہ کھنگ مینوں ٹھنڈی کھیر توں ہوئی اے ، سگرٹاں توں نئیں
 ایسے ہی کہے جا رہا ہے۔ اس کو کچھ پتا نہیں ہے۔ دس سال کی عمر سے  سگرٹ پی رہا ہوں ۔ اور اب میری عمر اسی سال ہے ۔اور بارہ بچوں کا باپ ہوں۔ اور تمہارا ڈاکٹر سارا قصور تمباکو کو دیئے جا رہا ہے۔ اسے یہ بھی نہیں علم کہ مجھے کھانسی ٹھنڈی کھیر کھانے سے ہوئے ہے ، سگریٹ پینے سے نہیں

No comments:

Post a Comment

مشاہدات و واقعات

ایک چھ ماہ کے بچے کو کو لایا گیا جس میں پانی کی شدید کمی ہو چکی تھی۔اس کے ساتھ کمزور سی ماں جس کے دونوں ہاتھوں پر برینولا دیکھ کر میرے...