اس دن جب ایک آدمی اپنے بچے کو بخار کے ساتھ لیکر آیا تو میری اس وضاحت کو ایک طرف کردیا کہ کہ جب دوائی پلائی ہی نہیں تو آرام کیسے آسکتا ہے؟؟؟ اور
بار بار ایک ہی جملہ دھرائے جارھا تھاآخر ایک ڈاکٹر کو چیک کروایا تھا کچھ تو آرام آنا چاہیئے تھا۔
اور اس دن جب ایک آدمی نے کمرے میں آتے ہی شکوہ کیا کہ آپ کی لکھی ہوئی دوائی دو بار خرید کر پلا دی ہے لیکن ذرا بھی آرام نہیں آیا ۔ لیکن میرے اس سوال کا جواب دینا گوارہ نہیں کیا کہ یہ تو چھ ماہ پرانی پرچی ہے؟ اورایک ہی بات پر ضد قائم رکھی کہ اس وقت بخار تھا۔اس دوائی سے پہلے دن ہی بخار اتر گیا تھا اوراب بھی بخار ہے تو یہی دوائی دو بار استعمال کر ڈالی ہے لیکن بالکل بھی آرام نہیں آیا۔
No comments:
Post a Comment