Wednesday, November 22, 2017

مشاہدات و واقعات


کبھی کبھی مجھے لگتا ہے کہ میں اپنے پیشہ وارانہ امور کی سرانجام دہی میں ناکام ہوں۔ اور اس بات کا احساس، شدت سے ہوتا ہے ،جب میں مریضوں کے سوالوں کے سامنے لاجواب ہوجاتا ہوں ۔ ابھی کل کی ہی بات ہے کہ ایک خاتون دو ماہ کے بچے کو پیٹ میں درد اور بہت زیادہ رونے کی شکائیت کے ساتھ لے کر آئی ۔ میں نے جب بچے کے دودھ کے بارے میں پوچھا تو ماں نے جواب دیا، دودھ تو میں صرف ماں کا ہی دیتی ہوں لیکن ویسے یہ جو س بھی پی لیتا ہے اور دہی اور دلیا بھی شوق سے کھا لیتا ہے۔شہد بھی دے دہتی ہوں۔میں نے مسکراتے ہوئے کہا اسے یخنی بھی پلا دینی تھی۔ماں نے میرے طنز کو نظرانداز کرتے ہوئے بڑے اشتیاق سے پوچھا، ڈاکٹر صاحب دیسی مرغی کی یا پھر برائلر سے بھی کام چل جائے گا؟؟؟

No comments:

Post a Comment

مشاہدات و واقعات

ایک چھ ماہ کے بچے کو کو لایا گیا جس میں پانی کی شدید کمی ہو چکی تھی۔اس کے ساتھ کمزور سی ماں جس کے دونوں ہاتھوں پر برینولا دیکھ کر میرے...