Wednesday, November 22, 2017

ایک مخلصانہ مشورہ


جب بھی اپنے بچے کو ڈاکٹر کو چیک اپ کروانے جائیں تو اس بات کا اہتمام ضرور کریں کہ بچے کی والدہ ساتھ ہو۔ ۔کیونکہ بچے کی بیماری کے حوالے سے ڈاکٹر کی جانب سے پوچھے گئے سوالوں کے جوابات کیلئے سب سے مناسب رشتہ وہی ہوتا ہے۔
کیونکہ کسی بھی بیماری کی تشخیص کیلئے سب سے اہم چیز ہسٹری ہوتی ہے اوراکثر اوقات بیماری کا ستر فیصد سے بھی زیادہ درست اندازہ صرف اچھی ہسٹری سے ہوجاتا ہے
لیکن مصروفیت کے اس دور میں یہ دیکھنے میں آتا ہے کہ مائیں بچے کو ڈاکٹر کے پاس دفتر سے شام کو لوٹنے والے باپ کے ہاتھ بھیج دیتی ہیں یا پھر ماموں چچا یا کسی کزن کے ساتھ ۔۔ جن کو صرف بیماری کی بنیادی نوعیت کے بارے میں بتایا گیا ہوتا ہے اور جب ان سے بچے کی بیماری کے بارے میں سوالات کیئے جاتے ہیں تو لاعلمی میں یا تواندازے سے جواب دینا شروع کردیتے ہیں یا پھر فون نکال کر ماں سے رابطہ کرنا ۔ جو یا تو اس وقت کہیں مصروف ہوتی ہے یا پھر سوالات کی نوعیت کو صحیح سمجھ نہیں پا رہی ہوتی ہے
اور اس ساری صورتحال کا نقصان بچے کی بیماری کی غلط تشخیص کی صورت میں نکل سکتا ہے
کوشش کیا کریں کسی بھی ڈاکٹر سے چیک اپ کروائیں تو اس کی کی لکھی ہوئی دوائیوں والی پرچی اور کروائے گئے ٹسٹ ہمیشہ ایک فائل کی صورت میں محفوظ رکھیں۔ جب بھی بچے کے کسی مسئلے میں ڈاکٹر سے ملنے جائیں تو بچے کی اس فائل کو ہمیشہ ساتھ لے کر جائیں ۔ بہت سی بیماریوں کی نوعیت اور بچے کی صحت کے حوالے سے اس فائل کی ڈاکٹر کیلئے کافی اہمیت ہوتی ہے

No comments:

Post a Comment

مشاہدات و واقعات

ایک چھ ماہ کے بچے کو کو لایا گیا جس میں پانی کی شدید کمی ہو چکی تھی۔اس کے ساتھ کمزور سی ماں جس کے دونوں ہاتھوں پر برینولا دیکھ کر میرے...